Turkiya-Logo-top

ٹرمپ کا اپنی تصویر امریکی پاسپورٹ میں شامل کرنے کا اعلان، سیاسی و عوامی حلقوں میں سوالات اٹھ گئے

واشنگٹن: امریکہ میں ایک غیر معمولی اور حیران کن فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر کو امریکی پاسپورٹ کے ایک خصوصی ایڈیشن میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام نے سرکاری دستاویزات میں سیاسی شخصیات کے کردار اور ریاستی غیر جانبداری پر ایک نئی اور گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔

خصوصی پاسپورٹ کا اجرا اور نمایاں خصوصیات

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ خصوصی پاسپورٹ امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے (Semiquincentennial) کی تقریبات کے موقع پر جاری کیا جا رہا ہے۔ اس یادگاری ایڈیشن کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • تصویر اور دستخط: پاسپورٹ میں تاریخی اعلامیہ آزادی (Declaration of Independence) کے پس منظر کے ساتھ صدر ٹرمپ کی نمایاں تصویر اور ان کے دستخط کو خصوصی انداز میں شامل کیا گیا ہے۔
  • محدود دستیابی: یہ خصوصی پاسپورٹ صرف محدود تعداد میں دستیاب ہوگا۔ ابتدائی مرحلے میں شہری اسے صرف واشنگٹن میں مخصوص دفاتر سے ذاتی طور پر درخواست دے کر ہی حاصل کر سکیں گے۔
  • کوئی اضافی فیس نہیں: حکام نے واضح کیا ہے کہ اس یادگاری پاسپورٹ کے حصول کے لیے شہریوں سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

ایک متبادل تاریخی ڈیزائن

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی پروگرام کے تحت پاسپورٹ کا ایک ‘متبادل ڈیزائن’ بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس میں صدر کی تصویر کے بجائے امریکہ کی تاریخ سے جڑے اہم واقعات، قومی ورثے اور بانیانِ امریکہ (Founding Fathers) کی تصاویر شامل ہیں۔ تاہم، ٹرمپ والا ورژن اس وقت میڈیا اور عوام کی پوری توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

"ریاستی غیر جانبداری متاثر ہو رہی ہے” — اپوزیشن کی تنقید

یہ امریکی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ کسی موجودہ اور برسرِ اقتدار امریکی صدر کی تصویر سرکاری پاسپورٹ جیسی اہم سفری دستاویز میں شامل کی گئی ہے۔ ماہرین اسے ایک غیر معمولی قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس فیصلے پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے:

  • ناقدین کا مؤقف: ناقدین کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ جیسی سرکاری دستاویزات کو سختی سے غیر سیاسی رکھا جانا چاہیے۔ اس اقدام سے ریاستی غیر جانبداری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
  • سیاسی تشہیر کا الزام: اپوزیشن رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ حکومتی اداروں کو ایک فرد کی سیاسی تشہیر (Political PR) کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

حکومتی دفاع: "یہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے”

تنقید کے جواب میں حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام کسی بھی قسم کے سیاسی مقصد کے لیے نہیں اٹھایا گیا، بلکہ اس کا اکلوتا مقصد امریکہ کی 250ویں تاریخی سالگرہ کو یادگار بنانا ہے۔ ان کے مطابق پاسپورٹ میں شامل مواد ملک کی تاریخ، آزادی اور قومی شناخت کو اجاگر کرتا ہے۔

Read Previous

ایران کے جوہری پروگرام پر ٹرمپ اور جرمن چانسلر میں کھلی لفظی جنگ: سفارتی تناؤ میں شدت

Leave a Reply