تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران اس وقت ایک انتہائی پیچیدہ دباؤ کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق، دشمن نے براہِ راست فوجی کارروائی کے بجائے ملک کے اندرونی ڈھانچے کو متاثر کرنے اور ریاست کو اندر سے کمزور کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘IRNA’ کے مطابق، قالیباف نے اپنے تازہ ترین بیان میں واضح کیا کہ موجودہ مرحلے میں ایران کے خلاف بیک وقت کئی مختلف محاذوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
‘غیر مرئی جنگ’: دباؤ کی مختلف سطحیں
قالیباف نے اس نئی صورتحال کو "غیر مرئی جنگ” (Invisible War) قرار دیا، جو روایتی جنگ سے بالکل مختلف ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت فوجی طاقت کے بجائے درج ذیل ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں:
- اقتصادی اور مالی دباؤ: سخت معاشی پابندیوں کے ذریعے ملکی معیشت کو غیر مستحکم کرنا۔
- میڈیا وار فیئر: بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے جھوٹا بیانیہ بنا کر عوام کی رائے کو متاثر کرنا۔
- داخلی اختلافات: سب سے خطرناک پہلو ملک کے اندرونی اور سماجی سطح پر اختلافات کو ہوا دینا ہے۔
اصل ہدف: ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے
ایرانی اسپیکر کے مطابق اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد کسی فوری فوجی ردعمل کے بجائے ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت ایران کو کھوکھلا کرنا ہے۔
- اعتماد کا فقدان: عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان بداعتمادی اور فاصلے پیدا کرنا۔
- سیاسی تقسیم: مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان دوریاں بڑھانا تاکہ فیصلہ سازی کا عمل مفلوج ہو کر رہ جائے۔
"موجودہ صورتحال میں سب سے خطرناک پہلو داخلی تقسیم کی کوششیں ہیں، کیونکہ یہی وہ عنصر ہے جو کسی بھی ملک کی طاقت کو براہ راست تباہ کرتا ہے۔ بیرونی دباؤ سے زیادہ اہم اندرونی یکجہتی کو توڑنے کی سازشیں ہیں۔”
قومی اتحاد اور ہم آہنگی ہی اصل طاقت ہے
محمد باقر قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی بقا اور اصل طاقت اس کا ‘قومی اتحاد’ ہے۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں تمام ریاستی ادارے ایک مشترکہ قومی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے عوام اور سیاسی دھڑوں کو خبردار کیا کہ اگر اندرونی سطح پر کسی بھی قسم کی بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، تو اس سے براہِ راست دشمن کے ناپاک منصوبوں کو تقویت ملے گی۔ موجودہ دور میں قومی مفاد کو ہر چیز پر فوقیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
سیاسی ماہرین کا تجزیہ: بین الاقوامی امور اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہرین کے مطابق، قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور مغربی طاقتوں (خصوصاً امریکہ اور اسرائیل) کے درمیان پہلے ہی شدید کشیدگی موجود ہے۔ یہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ ایرانی قیادت کو بیرونی حملوں سے زیادہ ملک کے اندر پیدا ہونے والے معاشی اور سماجی بحرانوں پر گہری تشویش ہے۔
