ترکی: پاکستانی سفارت خانے میں جناح ینگ رائٹرز ایوارڈز کی تقریب تقسیم انعامات

ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے پاکستانی سفارت خانے میں جناح ینگ رائٹرز ایوارڈز کی چوتھی سالانہ تقریب منقعد ہوئی جس میں ایوارڈ جیتنے والے طالب علموں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔

پاکستانی سفارت خانہ ہر سال جناح ینگ رائٹرز ایوارڈز کے تحت طالب علموں کو مضامین لکھنے کا موضوع دیتا ہے۔

اس سال کا موضوع تھا "جناح اور اتاترک” 20 ویں صدی کے دو عظیم رہنما

یہ ایوارڈز بانیٗ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے دیئے جاتے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانہ ترکی کی وزارت نیشنل ایجوکیشن کے تعاون سے ہر سال منعقد کرتا ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی ترک نائب وزیر تعلیم ریحا دنیمیش تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔ ترکی کی جنگ آزادی میں پاکستان کی حمایت کو کبھی نہیں بھلایا جا سکتاْ۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر کے جن علاقوں پر آج پاکستان قائم ہے یہاں سے ہزاروں نوجوانوں نے ترکی کی جنگ آزادی میں شرکت کی۔ اس وقت پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال نے نوجوانوں میں آزادی کا جذبہ بیدار کیا اور ترکوں کی حمایت کا اعلان کیا۔

اس موقع پر پاکستان کے سفیر سائرس سجاد قاضی نے کہا کہ جناح ینگ رائٹرز ایوارڈ پاکستانی سفارتخانے کی ایک اہم سفارتی سرگرمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ترکی کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دی۔ دونوں قوموں کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔

اس موقع پر وزارت نیشنل ایجوکیشن کی ڈائریکٹر جنرل مس بروج ایسائے نے مضمون نویسی کے اس مقابلے کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقابلے کے ججز نے 11 طالب علموں کے مضامین کو شارٹ لسٹ کیا۔ انہوں نے اسی طرز کا مقابلہ مضمون نویسی پاکستان میں بھی منعقد کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

مراد علی کے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل اینادولو ہائی اسکول کے طالب علم مصطفیٰ شاکر نے مضمون نویسی میں پہلا انعام حاصل کیا۔

مرکز کے پرائیویٹ المندیز سائنس ہائی اسکول کے سمیع یغمور یلماز نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

مراد علی کے اینادولو ہائی اسکول کے بیرل اخون نے تیسرا انعام جیتا۔

صوبہ کیزری کے کوجاسنین اینادولو ہائی اسکول کی مس نازلی جان اور صوبہ برسہ کے عثمان غازی ہما خاتون ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ہائی اسکول کی فائزہ نو دولماجی کو بھی انعامات دیئے گئے۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث یہ تقریب آن لائن منعقد کی گئی تھی۔

Read Previous

دبئی کی پہلی کمرشل فلائٹ اسرائیل لینڈ کر گئی

Read Next

موجودہ عالمی نظام دنیا کے بحرانوں کو حل کرنے میں ناکام ہے، صدر ایردوان

Leave a Reply