Turkiya-Logo-top

استنبول میں عالمی علما کی تین روزہ کانفرنس اختتام پذیر، امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے مشترکہ مرکز قائم کرنے کا فیصلہ

اتحادِ عالمی علمائے مسلمین کے زیرِ اہتمام امتِ مسلمہ کے اتحاد سے متعلق تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات کم کرنے، باہمی تعاون بڑھانے اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مستقل ادارہ جاتی نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

28 سے 30 اکتوبر تک جاری رہنے والی کانفرنس کا عنوان ’’امتِ وسط کا اتحاد: مشترکہ اصولوں سے میثاقِ اتحاد تک‘‘ تھا۔ اس میں 30 سے زائد ممالک سے تقریباً 250 علما، مفکرین اور مذہبی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس اتحادِ عالمی علمائے مسلمین اور وقفِ علمائے اسلام کے تعاون سے منعقد ہوئی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

30 اکتوبر کو جاری ہونے والے اختتامی اعلامیے میں کہا گیا کہ امتِ مسلمہ کا اتحاد مذہبی، فکری اور تہذیبی ضرورت ہے، تاہم اس کا مطلب مختلف فقہی مکاتبِ فکر یا علمی اختلافات کو ختم کرنا نہیں، بلکہ مشترکہ اصولوں پر تعاون اور اختلافات کو مکالمے، حکمت اور باہمی احترام کے ذریعے حل کرنا ہے۔

اعلامیے میں ’’مرکزِ اتحاد برائے مطالعات و مشترکہ ترقیاتی منصوبہ جات‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مرکز کا مقصد اسلامی دنیا میں اتحاد سے متعلق تحقیق، عملی منصوبوں اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

کانفرنس میں اسلامی ممالک اور غیر مسلم ممالک میں آباد مسلم برادریوں کے لیے رابطہ کمیٹیاں تشکیل دینے، مشترکہ علمی و تربیتی پروگرام شروع کرنے اور مختلف ممالک میں ورکشاپس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد مسلم تنظیموں اور اداروں کے درمیان رابطے مضبوط کرنا اور مشترکہ مسائل کے قابلِ عمل حل تلاش کرنا ہے۔

شرکا نے مجوزہ ’’میثاقِ امتِ وسط‘‘ کی مزید تیاری اور اسے مختلف مکاتبِ فکر کے لیے قابلِ قبول بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیے کے مطابق اس میثاق میں دین کے بنیادی اصولوں اور ان معاملات میں فرق واضح کیا جائے گا جن میں علمی اختلاف اور اجتہاد کی گنجائش موجود ہے۔

فلسطین کی صورتحال پر کانفرنس نے غزہ میں نسل کشی روکنے، مغربی کنارے میں ہلاکتوں اور خلاف ورزیوں کے خاتمے، قیدیوں کے حقوق کے تحفظ اور مسجدِ اقصیٰ سمیت مقدس مقامات کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔ شرکا نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اختتامی اعلامیے میں یمن کی وحدت، سلامتی اور استحکام کی حمایت کی گئی، جبکہ سوڈان میں جاری تنازع ختم کرنے، ریاستی اداروں کے استحکام اور متاثرہ شہریوں کے لیے انسانی امداد بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکا نے روہنگیا مسلمانوں اور مشرقی ترکستان سمیت دیگر علاقوں میں مشکلات کا سامنا کرنے والی مسلم آبادیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

کانفرنس نے ہر قسم کی دہشت گردی، مذہبی نفرت اور اسلاموفوبیا کی مخالفت کرتے ہوئے انسانی حقوق، مذہبی آزادی، پُرامن بقائے باہمی اور مختلف معاشروں کے درمیان باہمی احترام کو فروغ دینے پر زور دیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ کانفرنس کی کامیابی کا انحصار صرف قراردادوں پر نہیں بلکہ ان کے عملی نفاذ پر ہوگا۔ اس مقصد کے لیے شریک اداروں کے درمیان رابطہ کار مقرر کرنے، مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور آئندہ باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے کی سفارش کی گئی۔

کانفرنس کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امتِ مسلمہ کے اتحاد سے متعلق تجاویز کو مستقل تعاون، تعلیمی سرگرمیوں، تحقیق اور عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

Read Previous

امتِ مسلمہ کے اختلافات ختم کرنے کے لیے عالمی علما کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا، حافظ نعیم الرحمٰن

Read Next

بحیرہ اسود سے اناج کی ترسیل بحال کرنے کے لیے ترکیہ کی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں: مارکو روبیو

Leave a Reply