Turkiya-Logo-top

امتِ مسلمہ کے اختلافات ختم کرنے کے لیے عالمی علما کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا، حافظ نعیم الرحمٰن

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ امتِ مسلمہ کو اندرونی اختلافات، فرقہ واریت، انتہا پسندی، عدم برداشت اور تکفیری نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے دنیا بھر کے علما کو مؤثر اور متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنازعات کا حل مذاکرات، باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ میں پوشیدہ ہے۔

ترکیہ کے شہر استنبول میں اتحادِ عالمِ مسلمین کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اختلافات کو کم کرنا اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا ضروری ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ صہیونیت مسلم امہ کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو باہمی اتحاد اور تعاون کے ذریعے ایسی کوششوں کو ناکام بنانا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے فلسطین اور کشمیر کے تنازعات سمیت دنیا بھر میں مسلم اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں متفقہ پالیسی مرتب کرنے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کو ایک ایسے مؤثر عالمی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جہاں مشترکہ مسائل پر بات چیت کے ساتھ عملی اقدامات بھی کیے جا سکیں۔

انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے وسائل تعلیم، معاشی خوشحالی، جدید ٹیکنالوجی اور انصاف کے فروغ پر خرچ کریں۔ ان کے مطابق مسلم معاشروں کی ترقی کے لیے ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

حافظ نعیم الرحمٰن نے علما کی ذمہ داریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق، نوجوان نسل خصوصاً جنریشن زیڈ کے سوالات اور جدید معاشی و مالیاتی معاملات پر بھی اجتماعی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کرپٹو کرنسی جیسے نئے مالیاتی موضوعات کو بھی ان مسائل میں شامل کیا جن پر علما کو مشترکہ رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر امیر جماعتِ اسلامی نے تجویز پیش کی کہ کانفرنس کے تحت مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو ان اہم مسائل کا جائزہ لیں اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز اور اقدامات پر کام کریں۔

Read Previous

یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑا آپریشن، 24 گھنٹوں میں 324 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

Read Next

استنبول میں عالمی علما کی تین روزہ کانفرنس اختتام پذیر، امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے مشترکہ مرکز قائم کرنے کا فیصلہ

Leave a Reply