اسرائیل کا پاکستان، ایران اور چین کی مانیٹرنگ کرنے کا فیصلہ

اسرائیل نے یمن کے ایک خوبصورت اور سیاحتی جزیرے سوکوترہ میں انٹلی جنس مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو یہاں مرکز قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم مقامی قبائل نے اس منصوبے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے علاقے سے سعودی فوج کو نکالنے کی دھمکی دے دی ہے۔


پیرس میں فرانسیسی بولنے والی یہودی کمیونٹی کے ویب سائٹ "جے فورم” نے کہا ہے کہ اسرائیل متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر سوکوترہ میں ایک انٹلی جنس بیس قائم کر رہا ہے۔ اس مرکز کے قیام کا مقصد پاکستان، ایران اور چین پر نظر رکھنا اور ان کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔
دوہا انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے پروفیسر ابراہیم فریحات نے کہا ہے کہ اسرائیل خلیج عدن میں ایران کی سرگرمیوں کو روکنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ایران کی یمن کے حوثی باغیوں کی مدد کی روک تھام بھی کرنی ہے۔


یمن کا جزیرہ سوکوترہ سے بحیرہ عرب، خلیج عدن اور بحیرہ احمر پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ یو اے ای نے مئی 2018 سے اس جزیرے میں اپنے سیکڑوں فوجی تعینات کئے ہوئے ہیں جس کے باعث یمن کی حکومت اور یو اے ای کے درمیان تنازعہ ہے۔


پروفیسر ابراہیم کا کہنا ہے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان حالیہ طے پانے والا معاہدہ صرف دو ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے نہیں کیا گیا بلکہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اپنے پبجے گاڑھنا چاہتا ہے۔ اسی لئے سوکوترہ میں انٹلی جنس یونٹ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ سعودی عرب پر بھی نظر رکھی جا سکے۔


تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل سوکوترہ کے انٹلی جنس مرکز سے امریکہ کے لئے چین کی تجارتی جاسوسی کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد صدر ٹرمپ چین اور یورپ کے درمیان ہونے والی تجارت کو کم کرنا چاہتے ہیں۔
امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ کے بعد اب ضروری ہو گیا ہے کہ ان سمندروں سے چین کے تجارتی بحری جہازوں کی مانیٹرنگ کی جائے۔


تہران یونیورسٹی کے پروفیسر سید محمد مرندی کہتے ہیں کہ ایران تو پہلے ہی امریکی فوجی چھاوٗنیوں میں گھرا ہوا ہے تاہم اس کے باوجود اسرائیل کے پاس ایران پر حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
ایک اور بین الاقوامی تجزیہ کار حیدر عباس کا کہنا ہے کہ سوکوترہ کے انٹلی جنس مرکز کو پاکستان پر نظر رکھنے کے لئے بھی استعمال کیا جائے گا۔


انہوں نے کہا کہ اب سوکوترہ جزیرے پر نہ یمن کی حکومت کا قبصہ ہو گا اور نہ ہی حوثی باغیوں یا متحدہ عرب امارات کا۔ اب یہاں صرف اور صرف اسرائیل یعنی امریکہ کا سکہ چلے گا۔
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر سید قندیل عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سوکوترہ سے اسرائیل یہاں کچھ گڑ بڑ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور بھارت کی یہاں ٹرائی اینگل بنتی ہے تو اس سے جنوبی ایشیا کا نقشہ بدل جائے گا۔

Read Previous

ترکی ، گرمی میں مزید اضافہ

Read Next

عرب ممالک اور مسلم دنیا فلسطین کے مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کریں، فلسطینی مفتی محمد حسین

Leave a Reply