انتہا پسند یہودی مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچا رہے ہیں

انتہا پسند یہودی اسرائیلی پولیس اور فوج کی مدد سے یروشلم میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
فلسطین کی تنظیم حماس نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
اگست میں قابض اسرائیلی فوج نے یروشلم اور غزہ کے مغربی کنارے سمیت فلسطین کے مختلف علاقوں میں 1743 کارروائیاں کیں جس میں 380 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔
ان کارروائیوں میں تین افراد کو شہید کیا گیا جبکہ 85 افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کئے گئے۔
اگست میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی یہودی آباد کاروں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات پر 24 بار حملہ کیا۔ اسی ماہ 1600 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا اور اس کے اندرونی حصوں کو نقصان پہنچایا۔
اسرائیلی حکومت مسجد اقصیٰ سے مسلمانوں کو زبردستی عبادت سے روک رہی ہے۔ یہاں کے مسلم گارڈز کو زبردستی باہر نکال دیا گیا ہے۔ قابض اسرائیلی فوج نے چیک پوائنٹس کی تعداد بڑھا کر 479 کر دی ہے۔
اگست میں قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کے 107 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ صرف یروشلم میں مختلف مسلمان گھروں پر 313 بار چھاپے مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے فلسطینی مسلمانوں کے 44 گھر مسمار کر دیئے۔ اس سال قابض اسرائیل فوج کی طرف سے فلسطینی مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
اسرائیلی فوج نے فلسطینی کسانوں کی زرعی زمینوں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اب تک 52 کسانوں کی زمینیں اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لی ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کے 8 تجارتی مراکز بھی اسرائیلی قبضے میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیت لحم، یروشلم اور ہیبرون سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔

Read Previous

ترکی کی عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کی مستقل نمائشوں کا انعقاد

Read Next

یورپین یونین: سربیا کا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا امریکی دباوٗ مسترد

Leave a Reply