fbpx
ozIstanbul

اسرائیلی وزیر خارجہ پہلے سرکاری دورے پر بحرین پہنچ گئے

اسرائیل کے وزیر خارجہ یایئر لیپڈ گزشتہ برس خلیجی ممالک سے تعلقات قائم ہونے کے بعد پہلے سرکاری دورے پر بحرین پہنچ گئے جہاں وہ کئی معاہدوں سمیت اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح بھی کریں گے۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر خارجہ پہلے سرکاری دورے پر بحرین کے دارالحکومت مناما پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اپنے بحرینی ہم منصب سے ملاقات کریں گے اور یہاں اسرائیل کے سفارت خانے بھی افتتاح کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے معاہدے کے بعد اسرائیل کی کابینہ کے کسی بھی رکن کا یہ پہلا دورہ ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورے پر پہنچنے کے بعد بحرینی ایئرلائن گلف ایئر نے مناما سے تل ابیب کے لیے براہ راست پہلی پرواز بھی شروع کردی۔

اسرائیل کا سفارتی وفد بحرین کے حکام سے ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، معاشی معاہدوں، ہسپتالوں اور پانی کی کمپنیوں کے درمیان معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے سیکیورٹی تعلقات تھے جو خطے میں حریف ایران کے حوالے سے قائم کیے گئے تھے لیکن ان تعلقات کا باقاعدہ اعلان گزشتہ برس کیا گیا۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور ہائیت نے کہا کہ ہم بحرین کو بہت اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں، دو طرفہ تعلقات اور ایک دوسرے سے تعاون کے لیے ہم شراکت دار ہیں۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ اس سے بل متحدہ عرب امارات اور مراکش کا دورہ کر چکے ہیں اور دونوں ممالک میں اسرائیل کے سفارت خانوں کا افتتاح کیا تھا۔

رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیل کے لیے بحرین کے پہلے سفیر بھی تل ابیب پہنچے تھے اور اپنی دستاویزات اسرائیل کے صدر کو پیش کردی تھیں۔

یاد رہے کہ امریکا کی ثالثی میں متحدہ عرب امارات، بحرین سمیت دیگر 4 ممالک کے ساتھ گزشتہ برس تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے تھے۔

بحرین کا ایک وفد بھی رواں ہفتے کے شروع میں بحرین پہنچا تھا اور بحرین میں موجود یہودی برادری کے تہوار میں شرکت کی۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے 75 برسوں میں پہلی مرتبہ ہماری برادری نے یہ تہوار منایا اور یہ تقریب ہمارے لیے اور برادری کے لیے یاد گار تھی۔

پچھلا پڑھیں

افغانستان: خواتین کی فٹبال ٹیم ملک چھوڑ کر پرتگال منتقل

اگلا پڑھیں

شام میں ترک فورسز پر حملوں سے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ، ترک صدر ایردوان

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے