fbpx
ozIstanbul

افغانستان: خواتین کی فٹبال ٹیم ملک چھوڑ کر پرتگال منتقل

Players of Afghanistan’s national women’s football team stand near the Belem Tower in Lisbon, Portugal, September 29, 2021. Picture taken September 29, 2021. REUTERS/Rodrigo Antunes NO RESALES. NO ARCHIVES

افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد افغان لڑکیوں کی فٹبال ٹیم اپنے ملک کو چھوڑ کر عالمی شہرت یافتہ فٹبالر رونالڈو کے ملک منتقل ہو گئی ہے۔

ٹیم کی رکن 15 سالہ سارہ کا کہنا تھا کہ اپنا وطن افغانستان چھوڑنا تکلیف دہ تھا لیکن اب وہ بحفاظت پرتگال میں پیشہ ورانہ بنیادوں پر فٹبال کھیلنے کا خواب پورا کرنے کے لیے پرامید ہیں اور شاید کسی دن اپنے پسندیدہ اسٹار کرسٹیانو رونالڈو سے مل رہی ہے۔
سارہ افغانستان کی یوتھ فٹبال ٹیم کے اسکواڈ کی ان کئی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جو اگست میں طالبان کے ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد خوف سے اپنے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہو گئیں۔

اپنی والدہ اور ٹیم کی دیگر کھلاڑیوں کی ہمراہ دریائے ٹیگس پر لزبن کے تاریخی بیلم ٹاور کا دورہ کرنے والی سارہ نے کہا کہ میں اب آزاد ہوں، میرا خواب ہے کہ میں رونالڈو جیسی اچھی کھلاڑی بن سکوں اور میں یہاں پرتگال میں ایک بڑی کاروباری خاتون بھی بننا چاہتی ہوں۔

انہوں نے ایک دن وطن واپسی کی امید بھی ظاہر کی تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا وہ اسی وقت کریں گے جب انہیں یقین ہو کہ وہ آزادانہ زندگی گزار سکیں گی۔

واضح رہے کہ طالبان رہنماؤں نے خواتین کے حقوق کا احترام کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن ان کی پہلی حکومت کے دوران خواتین کام نہیں کر سکتی تھیں اور لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی تھی، گھروں سے نکلتے وقت عورتوں کو اپنا چہرہ ڈھانپنا پڑتا تھا اور ایک مرد رشتہ دار کا ساتھ لازمی تھا۔

ایک سینئر طالبان عہدیدار نے 15 اگست کو ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاید خواتین کو کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے اور اس سے ان کی جسامت نمایاں ہو گی۔

افغانستان کی سینئر قومی ٹیم کی کپتان فرخندہ محتاج نے کہا کہ ٹیم کو افغانستان سے نکال کر پرتگال لانے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی پسند کا کھیل کھیلیں۔

کینیڈا میں اپنے گھر سے ایک مقامی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ فٹبال کوچ کے طور پر کام کرنے والی فرخندہ انخلا کے عمل کے دوران لڑکیوں سے ساتھ رابطے میں رہیں، وہ کُل 80 افراد کے انخلا میں کامیاب رہے جس میں خواتین یوتھ ٹیم اور ان کے اہلخانہ شامل ہیں۔

یہ نوجوان لڑکیاں 19 ستمبر کو پرتگال پہنچی تھیں۔
فرخندہ محتاج نے کہا کہ یہ لڑکیاں بہت سارے چیلنجز سے گزری ہیں لیکن اب اپنی برداشت اور تحمل کی وجہ سے وہ یہاں تک آنے میں کامیاب رہیں۔

خواتین فٹبالر کی ایک رشتے دار 25 سالہ ذکی رسا نے کابل ہوائی اڈے پر افراتفری کو یاد کرتے ہوئے شکر ادا کیا کہ وہ اب پرتگال میں ہیں اور اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کے بارے میں کچھ بھی صورتحال غیریقینی ہے البتہ یہ ہے بات اہم ہے کہ ہم محفوظ ہیں۔

پچھلا پڑھیں

یوکرین نے روس میں قید شہریوں کی رہائی کے لیے ترکی سے مدد مانگ لی

اگلا پڑھیں

اسرائیلی وزیر خارجہ پہلے سرکاری دورے پر بحرین پہنچ گئے

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے