fbpx

یہودیوں کا فیسٹیول: فلسطین کی مسجد ابراہیم میں آذان پر پابندی

اسرائیل نے فلسطین میں ہیبرون کی جامع مسجد ابراہیم میں جمعة المبارک کی نماز کے لئے آذان پر پابندی عائد کر دی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ قریب کے علاقے میں یہودی آبادکاروں کی بستی ہے جہاں یہودیوں کا فیسٹیول جاری ہے۔ ایسے میں خدشہ ہے کہ مشتعل انتہاپسند یہودی مسجد پر حملہ کر سکتے ہیں۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آذان پر پابندی دراصل اسرائیل کی طرف سے "مذہبی جنگ کا اعلان ہے”۔

مساجد میں آذان پر پابندی اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا ہے۔

مسجد ابراہیم کے ڈائریکٹر اور امام شیخ حفظی ابو سنینا نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے جمعہ کی نماز فجر سے ہفتے کی نماز مغرب تک آذان پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسرائیل کا یہ اقدام مذہبی مقامات کی آزادی کے لئے بنائے گئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

فلسطین کی وزارت خارجہ نے یروشلم میں مغربی کنارے کے آئی ڈی کارڈ ہولڈرز کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی کی بھی سخت مذمت کی ہے۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

ترکی کسی بھی قسم کی بغاوت کو قبول نہیں کرے گا، صدر ایردوان

اگلا پڑھیں

صدر ایردوان کے لئے 2020 کی گلوبل مسلم پرسنیلٹی کا ایوارڈ

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے