fbpx
ozIstanbul

اسلامو فوبیا ایک حقیقیت ہے،کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو

کینیڈا کے جنوبی صوبہ اونٹاریو میں مسلمان خاندان کے 4 افراد کی ہلاکت پر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ اگر کوئی سوچتا ہے کہ اس ملک میں نسل پرستی اور نفرت کا وجود نہیں ہے تو متاثرہ خاندان کے زیر علاج بچے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیسے کہیں کہ اسلاموفوبیا حقیقت نہیں ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا کہ مسلمان خاندان کے پر دہشت گرد حملہ تھا جس کے متحرکات نفرت پر مبنی تھے جو ہماری برادریوں میں سے ایک کے دل میں نفرت کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی سوچتا ہے کہ اس ملک میں نسل پرستی اور نفرت کا کوئی وجود نہیں ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں: ہم ہسپتال میں موجود زیر علاج بچے پر ہونے والے حملے کی کس طرح وضاحت کریں گے؟ کیا ہم متاثرہ خاندانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکتے ہیں کہ اسلامو فوبیا حقیقت نہیں ہے؟۔

کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران طویل وقت کے بعد متعدد کینیڈین تازہ تازہ کے لیے شام کی سیر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا ، لیکن اس رات مسلمان خاندان کبھی گھر نہیں جا سکا، ان کی زندگیوں کو ایک وحشیانہ، بزدلانہ اور تشدد پرمبنی رویے کی نذر ہوگئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ قتل کوئی حادثہ نہیں تھا اور بہت سے مسلمان کینیڈین خوفزدہ ہیں۔

جسٹن ٹروڈو نے واضح کیا کہ غلط بیانی اور آن لائن انتہا پسندی اور سیاست میں الزام تراشی کے وقت استعمال ہونے والے الفاظ اثر انداز ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ الفاظ بیچ کی مانند کام کرتے ہیں جو بدصورت وسیع رجحان کو بڑھاتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اور بعض اوقات وہ اصل تشدد کا باعث بنتے ہیں۔

اس سے قبل کینیڈا کے وزیر اعظم نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ وہ لوگ جو افضل کے اہلخانہ کو جانتے ہیں، لندن اور کینیڈا میں موجود مسلم کمیونٹی اور وہ تمام لوگ جو واقعے پر افسردہ اور خوفزدہ ہیں، میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اکیلےنہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورا ملک آپ سے تعزیت کرتا ہے ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔

منگل کی رات کو حکام نے کورونا سے متعلق پابندیوں میں نرمی کردی تاکہ متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کے لیے لوگ جمع ہوسکے۔

جہاں کینیڈا کے وزیراعظم اور تمام کینیڈا کی سیاسی جماعتوں کے رہنما نے سیکڑوں سوگواران کے ہمراہ مقامی مسجد کے پاس جمع ہوئے اور جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں شمع روشن کیں۔

اس موقع پر کینیڈا کے وزیر اعظم نے مجمع سے خطاب کرتے ہئوے کہاکہ ایسے الفاظ نہیں ہیں جو تین نسلوں کے قتل کے غم کو کم کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی الفاظ نہیں ہیں جو اس کمیونٹی کے دکھ کو ختم کرسکتے ہوں، ایسی کوئی باتیں نہیں ہیں جو اس چھوٹے بچے کے مستقبل کو ٹھیک کرسکتے ہوں جس کا مستقبل چھین لیا گیا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ تنہا نہیں ہیں، تمام کینیڈین آپ کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

خیال رہے کہ اس سے قبل کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مسلمان خاندان کے 4 افراد کی ہلاکت کو دہشت گرد حملہ قرار دیا تھا جنہیں ایک شخص نے ٹرک تلے کچل دیا تھا۔

حملے کے فورا بعد ہی گرفتار کیے گئے 20 سالہ ملزم پر پہلے درجے کے قتل اور قتل کی کوشش کے چار الزامات عائد کیے گئے ہیں جبکہ مسلم برادری کے متعدد رہنماؤں نے عدالتوں سے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

متاثرہ افراد کے نام جاری نہیں کیے گئے البتہ لندن شہر کے میئر ایڈ ہولڈر نے بتایا گیا کہ ان میں ایک 74 سالہ خاتون، ایک 46 سالہ مرد، 44 سالہ خاتون اور ایک 15 سال کی لڑکی شامل ہے جو ایک ہی خاندان کی 3 نسلیں تھیں’۔

پچھلا پڑھیں

ارطغرل غازی :ترگت الپ نے مداحوں کو نئے پروجیکٹ کے متعلق خوشحبری سنا دی

اگلا پڑھیں

بحیرہ مرمرہ کی صفائی کا کام جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا، ترک صدر ایردوان

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے