ترکی اور شام کے سرحدی شہر ادلب میں سیکیورٹی کی صورتحال دوبارہ سنگین ہونے کا خطرہ

ترکی اور شام کے سرحدی شہر ادلب میں ایران کی پاسداران انقلاب اور غیر ملکی دہشت گرد دوبارہ سرگرم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شام کے شمال جنوبی شہر ادلب میں ایران کے ریولوشنری گارڈز اور دہشت گرد گروپ ایک بار پھر اکٹھے ہونا شروع ہو گئے ہیں جس سے یہاں کی سیکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایران کی پاسداران انقلاب کے 75 اہلکار عراق کے راستے شام میں داخل ہوئے اور اب وہ ادلب پہنچ چکے ہیں۔ یہ اہلکار ایران کی پاسداران انقلاب کی 30 فوجی گاڑیوں کے ساتھ ادلب میں داخل ہوئے۔

ایران کے حمایت یافتہ جنگجو پہلے ہی اس علاقے میں موجود تھے۔ پاسداران انقلاب کے اہلکار علاقے میں پہلے سے موجود جنگجووں کے ساتھ مل گئے ہیں۔

شام کے صدر بشارالاسد کے مسلح عناصر ادلب کے دیر الزور میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ مئی 2017 میں ترکی، روس اور ایران کے درمیان آستانہ میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ادلب، لتاکیہ، ہامہ اور الیپو کو غیر متنازعہ علاقہ بنا کر یہاں سے غیر ملکی جنگجووں اور دہشت گردوں کو نکالنا تھا۔ لیکن ایران کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے روس کی حمایت کے ساتھ تین شہروں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا اور اب وہ ادلب کی طرف پیشقدمی کر رہے ہیں۔

روس اور ترکی کے درمیان ستمبر 2018 میں سوچی میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ادلب میں سیز فائر کیا گیا اور تمام فریقین نے اسے گرین زون بنانے کا وعدہ کیا۔

گذشتہ سال مئی میں روس نے شام کے ساتھ مل کر ادلب اور اس کے مضافات کے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا جس کے بعد یہاں سیز فائر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔

Read Previous

ترکی میں کورونا وبا ایک بار پھر سر اٹھانے لگی

Read Next

ترکی: 2019 میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر 2.6 ارب ڈالر خرچ کئے گئے

Leave a Reply