اسلام آباد میں سیکیورٹی حکام نے سینئر صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا نمائندوں کو ایک خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے بھارت کی داخلی صورتحال، علاقائی سیکیورٹی ماحول اور جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
بریفنگ کے دوران حکام نے کہا کہ اجلاس کا مقصد خطے میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز، بھارت کی داخلی صورت حال اور ان کے ممکنہ علاقائی اثرات سے متعلق میڈیا کو آگاہ کرنا تھا۔ حکام کے مطابق بھارت اس وقت سیاسی، سماجی، مذہبی اور معاشی نوعیت کے متعدد داخلی مسائل سے دوچار ہے، جو اس کے داخلی استحکام اور علاقائی کردار کو متاثر کر رہے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
سیکیورٹی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ریاستی اداروں میں نظریاتی رجحانات نے ملک کے کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی تشخص کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث معاشرتی تقسیم میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مختلف طبقات کے درمیان فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں۔
بریفنگ میں حکام نے ذات پات کے نظام، مذہبی تقسیم اور بڑھتے ہوئے معاشی تفاوت کو بھی بھارت کے اہم داخلی مسائل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی عدم مساوات اور سماجی تقسیم مستقبل میں مزید پیچیدہ صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔
اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر، منی پور، ناگالینڈ، خالصتان تحریک اور شمال مشرقی بھارتی ریاستوں کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا گیا۔ حکام کے مطابق ان علاقوں میں موجود سیاسی، نسلی اور سماجی اختلافات بھارت کے لیے اہم داخلی چیلنجز بن چکے ہیں، جن کے اثرات ملک کے مجموعی استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
خارجہ پالیسی کے حوالے سے سیکیورٹی حکام نے کہا کہ بھارت کو اپنے متعدد ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون اور پائیدار امن کے امکانات متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف جارحانہ بیانیہ اختیار کرتا ہے، تاہم پاکستان عالمی سطح پر اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کر رہا ہے۔
بریفنگ کے اختتام پر حکام نے قائداعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی حالات اس نظریے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس موقع پر "تحریکِ پاکستان 2.0” کی اصطلاح کا بھی ذکر کیا گیا جسے حکام نے موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے تجزیے کا حصہ قرار دیا۔
