انس میناریلی مدرسہ؛ سیاحوں کے لیے تاریح کے سفر کا موقع

ترکی کے وسطی صوبے کونیا میں واقع اناطولیہ کی سب سے پہلی یونیورسٹی انس میناریلی مدرسہ ایک تاریحی عمارت ہے جہاں آنے والے سیاح ماضی کی طرف سفر کرتے ہیں۔

یہ عمارت 1264 میں ترک سلجوکوں کے سلطان کیکائوس دوم جو بازنطینی سلطنت سے فتح شدہ اراضی کی سربراہی کرتے تھےکے دور میں تعمیر کی گئی ، اس یونیورسٹی کو حدیث کے نظم و ضبط کی تعلیم دینے کے لئے قائم کیا گیا ۔

انیس میناریلی مدرسہ طویل عرصے سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل ہے۔یہ عمارت اپنے شاندار دروازوں، اینٹوں کی سجاوٹ ، پھلوں اور ہندسی نقش کاری کے ساتھ ترک-اسلامی فن تعمیر کی ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے۔

شہر کے وسعت میں آلا دین پہاڑی کے مغرب میں واقع یہ مدرسہ مقامی اور غیر ملکی سیاحوں سے بھرا رہتا ہے۔ مدرسے کا مرکزی دروازہ سلجوک پتھر سازی کی ایک بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ دریں اثنا ، مینار کو پھولوں اور ہندسی نقش کاری سےسجایا گیا ہے اور اس پر کوفیک حطاطی سے "الملکی للہ” ("خدا کی پراپرٹی”) ،قرآنی آیات اور آیت الکرسی لکھی گئی ہے۔ مینار کا پیڈسٹل تراشے گئے پتھروں سے سجایا گیا ہے۔

فیروزی رنگ کا مینار سفید پیسٹ اینٹوں سے سجا ہوا ہے۔ مدرسہ میں اصل میں دو مینار کی بالکونییاں تھیں ، لیکن ان میں سے ایک 1901 میں آسمانی بجلی گرنے سے تباہ ہوگئی۔ اس عمارت کو 19 ویں صدی کے آخر تک استعمال کیا گیا اور 1956میں اس کی مرمت کر کے اسے معمار کے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ۔ یہ عمارت سلجوک دور کی کچھ بہترین علامات کی نمائش کرتی ہے جن میں دو سروں والے عقاب اور پروں والے فرشتے شامل ہیں۔

Read Previous

ترک صدر کا 98 ویں یومِ ظفر کی تقریب سے خطاب

Read Next

ترکی میں منگنی کی تقریبات پر پابندی

Leave a Reply