اسرائیل نے دوسرے روز بھی مسجد ابراہیم بند کر دی

یروشلم کے مغربی کنارے کے ہیبرون میں واقع مسجد ابراہیم کو اسرائیلی فوج نے دوسرے روز بھی بند رکھا۔

مسلمانوں کو دوسرے روز بھی مسجد میں نماز ادا نہیں کرنے دی گئی۔

یہودیوں کے مذہبی تہوار روش ہشنہ کے باعث سیکیورٹی وجوہات پر مسجد کو آج بھی نماز کے لئے بند کیا گیا۔

مسجد ابراہیم کے امام شیخ مفتی ابو سنین نے کہا کہ اسرائیل مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ایک طرف یہودیوں کو مذہبی تہوار منانے کی پوری آزادی ہے لیکن دوسری طرف مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے۔

مسجد ابراہیم کو یہودی بھی مقدس مانتے ہیں اور اسے بزرگوں کے غار سے تعبیر کرتے ہیں۔ مسجد ابراہیم کو یونیسکو نے 2017 میں دنیا کی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ مسجد ابراہیم میں حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور ان کی ازواج کی تدفین کی گئی تھی۔ اسی لئے یہ مسجد مسلمانوں اور یہودیوں کے لئے مقدس مانی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ 1994 میں ایک یہودی آبادکار نے مسجد میں داخل ہو کر فائرنگ کی اور 29 نمازیوں کو شہید کر دیا تھا۔ دیگر نمازیوں نے حملہ آور یہودی کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا۔

اس وقت ہیبرون میں مسلمانوں کی آبادی دو لاکھ ہے جبکہ چند سو غیر قانونی یہودی آبادکار بھی یہاں رہ رہے ہیں۔

Read Previous

اسرائیل کو تسلیم کرو، دہشت گرد ریاست کا الزام ختم کر دیں گے، سوڈان کو امریکی پیشکش

Read Next

سات ارب انسانوں کی قسمت پانچ ممالک کی سیکیورٹی کونسل پر نہیں چھوڑی جا سکتی، صدر ایردوان کا جنرل اسمبلی سے خطاب

Leave a Reply