Turkiya-Logo-top

وزیر خارجہ حاقان فیدان کل قطر کا دورہ کریں گے: ترکیہ-قطر شراکت داری کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

انقرہ / دوحہ: تازہ ترین سفارتی رپورٹس کے مطابق، ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کل ایک انتہائی اہم سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچیں گے۔ اس دورے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان اسٹریٹجک، دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور اسٹریٹجک کمیٹی کا اجلاس

دوحہ پہنچنے پر ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان قطر کے وزیر اعظم اور ہم منصب وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے تفصیلی ملاقات کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی ان کی ملاقات متوقع ہے۔

اس اہم دورے کا ایک بنیادی مقصد ‘ترکیہ-قطر ہائی اسٹریٹجک کمیٹی’ کے 12ویں اجلاس کی تیاریوں کا حتمی جائزہ لینا بھی ہے، جس کا باقاعدہ انعقاد رواں سال ترکیہ میں کیا جائے گا۔

دفاعی تعاون اور آبنائے ہرمز کی سلامتی

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اس دورے میں درج ذیل اہم امور پر مشاورت کی جائے گی:

  • فوجی اور دفاعی شراکت داری: خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور چیلنجز کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر غور کیا جائے گا۔
  • آبنائے ہرمز کی اہمیت: علاقائی سلامتی اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) میں محفوظ تجارت کی بحالی کی اہمیت کو خاص طور پر اجاگر کیا جائے گا۔

غزہ کی صورتحال اور اسرائیلی جارحیت پر مشترکہ لائحہ عمل

ترکیہ کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام اس دورے کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے:

  • ملاقاتوں کے دوران اسرائیل کی جارحانہ سرگرمیوں کے باعث خطے میں پیدا ہونے والے شدید عدم استحکام پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
  • غزہ اور مغربی کنارے (West Bank) میں جاری اسرائیلی مظالم کو رکوانے اور اس مسئلے کو بین الاقوامی برادری کے ایجنڈے پر ترجیحی بنیادوں پر لانے کے لیے مشترکہ اور مؤثر اقدامات پر مشاورت کی جائے گی۔

سفارتی اہمیت اور تجزیہ

مبصرین اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیر خارجہ حاقان فیدان کے اس دورے کو ترکیہ-قطر اتحاد کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کی مختلف شعبوں میں کثیر الجہتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا، بلکہ خطے (مشرقِ وسطیٰ) میں ان کے بڑھتے ہوئے مشترکہ اثر و رسوخ کو بھی مزید تقویت بخشے گا۔

Read Previous

صدر ایردوان سے بیلجیئم کی ملکہِ میتھیلڈے کی استنبول کی تاریخی وحیدالدین حویلی میں ملاقات

Read Next

پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں “معرکۂ حق” کے موقع پر سیمینار کا انعقاد

Leave a Reply