لاہور (12 مئی 2026): پاکستان نیوی کے زیرِ انتظام ‘پاکستان نیوی وار کالج لاہور’ میں “معرکۂ حق” کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار کا مرکزی عنوان “جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس، سفارت کاری اور بیانیہ” رکھا گیا تھا، جس میں عسکری، سفارتی اور تعلیمی حلقوں کی نامور شخصیات نے شرکت کی۔
میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلنس کی کاوش
یہ سیمینار ‘میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلنس’ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جہاں مقررین نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، علاقائی سلامتی، سفارتی چیلنجز اور اسٹریٹیجک بیانیے (Strategic Narrative) کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔
مہمانِ خصوصی وائس ایڈمرل راجہ رب نواز کا خطاب
تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف آف اسٹاف پاکستان نیوی، وائس ایڈمرل راجہ رب نواز تھے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے چند کلیدی نکات پر روشنی ڈالی:

- پاک بحریہ کا کردار: “معرکۂ حق” کے دوران پاک بحریہ نے مؤثر حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
- ادارہ جاتی تعاون: مضبوط قومی بیانیہ اور مؤثر ڈیٹرنس کے لیے عسکری اداروں، جامعات، میڈیا اور سفارتی حلقوں کے درمیان مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔
- علاقائی استحکام: پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
استقبالیہ خطاب: ریئر ایڈمرل سہیل احمد عظمی
صدر میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلنس، ریئر ایڈمرل سہیل احمد عظمی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں سیمینار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:
"جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی اسٹریٹیجک صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے ڈیٹرنس پوسچر (Deterrence Posture) اور سفارتی کردار کا معروضی جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔”
سیمینار کے اہم پہلو اور مباحثے
سیمینار کے دوران مختلف ماہرین نے درج ذیل موضوعات پر تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کیں:
- بیانیاتی جنگ (Narrative Warfare): ڈیجیٹل دور میں درست اور مضبوط قومی بیانیے کی تشکیل۔
- علاقائی سلامتی: جنوبی ایشیا میں ابھرتے ہوئے نئے جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) چیلنجز۔
- سفارتی حکمتِ عملی: تنازعات کے دوران اور بعد ازاں مؤثر سفارت کاری کا کردار۔
شرکاء اور اختتامیہ
تقریب میں عسکری حکام، سینئر سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم، میڈیا نمائندگان اور یونیورسٹی طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اور مؤثر سفارت کاری کو فروغ دینا ہوگا۔
اختتامی خطاب میں مہمانِ خصوصی نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ملکی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتا رہے گا۔
