استنبول: ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے بیلجیئم کی ملکہ میتھلڈے (Queen Mathilde) نے 11 مئی 2026 بروز پیر، استنبول کی تاریخی وحید الدین حویلی میں ایک انتہائی اہم ملاقات کی۔ سفارتی اور اقتصادی لحاظ سے اس ملاقات کو نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مرکز دوطرفہ معاشی تعاون اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) تھے۔
تاریخی مقام پر پرتپاک استقبال
بیلجیئم کی ملکہ میتھلڈے ایک اعلیٰ سطحی اقتصادی مشن کی قیادت کرتے ہوئے اتوار 10 مئی کو ترکیہ پہنچی تھیں۔


- صدر ایردوان اور ان کی اہلیہ، خاتونِ اول امینہ ایردوان نے استنبول کے ایشیائی ساحل پر واقع وحید الدین حویلی (Vahdettin Köşkü) میں ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
- باسفورس کے دلفریب مناظر کی حامل یہ تاریخی حویلی اپنی بے مثال خوبصورتی کے لیے مشہور ہے اور عموماً اہم ترین غیر ملکی سربراہانِ مملکت کی میزبانی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
اقتصادی شراکت داری، تجارت اور گرین ٹیکنالوجی
اس اعلیٰ سطحی ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا تھا۔



- مشترکہ منصوبے: ملاقات کے دوران ترکیہ میں بیلجیئم کی کمپنیوں کی موجودگی اور نئے مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
- ماحولیاتی تعاون: دونوں رہنماؤں کی جانب سے توانائی کی منتقلی (Energy Transition) اور گرین ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاقِ رائے کیا گیا۔
سماجی بہبود اور انسانی ہمدردی کے مشنز کی ستائش
اقوامِ متحدہ کے "پائیدار ترقی کے اہداف” کی عالمی ایڈووکیٹ ہونے کے ناطے، ملکہ میتھلڈے نے صدر ایردوان کے ساتھ سماجی بہبود کے متعدد منصوبوں پر بات چیت کی۔
- خاص طور پر خواتین اور بچوں کی تعلیم اور صحت کے شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
- ملکہ نے ترکیہ کی جانب سے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی اور عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کے مشنز میں اس کے نمایاں اور فعال کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
ترکیہ-یورپی یونین تعلقات کا پس منظر اور بیلجیئم کی حمایت
علاقائی صورتحال اور عالمی امن کے حوالے سے ہونے والی اس گفتگو کو ترکیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں پیش رفت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

- سفارتی تناظر: یاد رہے کہ ترکیہ اور یورپی یونین کے مابین حالیہ سفارتی کشیدگی کے بعد بیلجیئم وہ نمایاں ملک تھا جو ترکیہ کی مضبوط حمایت میں سامنے آیا۔
- یورپی کمیشن کی صدر کی ترکیہ مخالف بیان بازی کے بعد بیلجیئم کی اعلیٰ قیادت نے ترکیہ کو یورپ کا ایک "ناگزیر شراکت دار” قرار دیتے ہوئے اس بیان بازی کو بے بنیاد اور بے معنی قرار دیا تھا۔
