صدر ایردوان کا لوزان امن معاہدے کی 99 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی پیغام

ترک صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ یونان جان بوجھ کر لوزان امن معاہدے کو ختم کر رہا ہے۔

لوزان امن معاہدے کی 99 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک ویڈیو پیغام میں صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ لوزان امن معاہدے کی شرائط و ضوابط، اور خاص طور پر ترک اقلیتوں کے حقوق، کو حال ہی میں یونان نے جان بوجھ کر ختم کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے لیے اس صورت حال کو قبول کرنا ممکن نہیں یہ سب اقدام اچھے ہمسایہ تعلقات اور معاہدے کی وفاداری کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتے۔

جنگ آزادی میں ترکیہ کی فتح کے بعد 24 جولائی 1923 کو لوزان معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

اسے جمہوریہ ترکیہ کے بانی دستاویزات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے اس بات پر زور دیا کہ انقرہ نے گزشتہ 99 سالوں میں اس کے نفاذ کی باریک بینی سے نگرانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوزان امن معاہدے کے ذریعے ہماری زمینی سرحدیں کھینچ دی گئیں ،یونان میں ترک اقلیت کے حقوق محفوظ ہو گئے اور ہمارے ساحلوں کے قریب یونانی جزائر کی غیر فوجی حیثیت کی تصدیق ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ علاقائی اور عالمی مسائل میں اپنی فعال پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوشش کر ہا ہے کیونکہ یہ 2023 کی طرف بڑھتے ہوئے ترقی سے بھر پور قدم ہیں، جو لوزان امن معاہدے کی 100 ویں سالگرہ اور جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد ہے۔

صدر نے زور دے کر کہا کہ ہم خطے میں دیرپا امن و سکون اور اپنی پیاری قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

صدر ایردوان نے جمہوریہ ترکیہ کے بانی غازی مصطفی کمال اتاترک، ان کے ساتھیوں، شہداء اور سابق فوجیوں کے لیے بھی اپنے احترام کا اظہار کیا۔

Read Previous

یوکرین سے اناج کے پہلے بحری جہاز کی روانگی کے لیے رابطہ کاری کی کوششیں جاری ہیں،ترک وزارت دفاع

Read Next

پاک امریکہ پہلا ہیلتھ ڈائیلاگ آج واشنگٹن میں ہو گا

Leave a Reply