صوفی بزرگ محمود آفندی لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرخاک، صدر ایردوان نے میت کو کاندھا دیا

لاکھوں افراد کا جم غفیر ۔۔۔ یا اللہ بسم اللہ اللہ اکبر کے نعرے ۔۔۔ اور مرنے والے کے حق میں اللہ کے حضور گوہی کی صداوں میں ترکیہ کے معروف صوفی بزرگ محمود استاعثمان اوغلو ہوجا آفندی کو سپرخاک کر دیا گیا
اعلی حضرت محمود آفندی کی میت کو استنبول کی عظیم الشان فاتح مسجد میں لایا گیا تو مسجد سے ملحقہ سڑکوں پر لاکھوں افراد امڈ آئے ،
شیخ کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے صدر رجب طیب ایردوان بنفس نفیس موجود تھے ، مفتی اعظم علی ارباش ، جید علما کرام اور شیخ کے مریدین کی بڑی تعداد اس موقع پر جمع تھی
جمعے کی نماز کے بعد میت کو مسجد سے ملحقہ احاطے میں رکھا گیا اور نماز جنازہ کیلئے صفیں ترتیب دی گئیں ۔۔۔
نماز جنازہ سے قبل ترک صدر طیب ایروان نے مختصر خطاب میں اعلی حضرت کو خراج تحسین پیش کیا ،اور ان کے انتقال کو امت مسلمہ کا بڑا نقصان قرار دیا ۔۔
علما کرام نے بھی شیخ محمود کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔
جنازے کے بعد محمود آفندی کی میت کو قریبی قبرستان لے جایا گیا ۔ ترک صدر طیب ایردوان نے بھی میت کو کاندھا دیا ۔۔ اور یوں عالم اسلام کے اس عظیم صوفی بزرگ کو لاکھوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا


محمود آفندی کون تھے ۔۔؟
ترانوے برس کی عمر میں انتقال کرنے والے محمود آفندی انیس سو انتیس میں ترابزون شہر میں پیدا ہوئے تھے ۔ انہیں بچپن سے ہی علما کی صحبت میسر رہی ۔۔اور وہ خود بھی زندگی بھر قرآن کی تدریس سے وابستہ رہے ۔ وہ سلسلہ نقشبندیہ کے معروف صوفی بزرگ تھے
وہ صدر ایردوان کے مرشد بھی تھے ۔۔۔انہوں نے اپنی زندگی اسلام کے لئے وقف کر دی تھی ۔۔ ترکیہ کے لاکھوں لوگوں کو قرآن کی تعلیمات سے روشناس کروایا تھا۔انہوں نے تقریبا چالیس برس تک مسجد میں امامت کے فرائض بھی سر انجام دئیے ۔ وہ دنیا بھر میں کم و بیش ساٹھ لاکھ سے زائد مریدین کا حلقہ رکھتے تھے ۔ آج ترکیہ سمیت دنیا بھر میں لاکھوں عقیدت مند اپنے شیخ کی جدائی کے صدمے سے دوچار ہیں ۔ اللہ شیخ کی قبر کو اپنے نور سے منور کرے ۔ آمین

Read Previous

ترکیہ اور برطانوی وزرائے دفاع کی انقرہ میں ملاقات، یوکرین جنگ اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

Read Next

ترک ہلال احمر مارمارس جنگل کی آگ سے لڑنے والے فائر فائٹرز کی مدد میں مشغول

Leave a Reply