fbpx

فرانس: اسلام مخالف الزامات پر مسلمان امتیازی سلوک کا شکار

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحی علاقوں کے مسلمان اسلام مخالف الزامات پر پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے فرانسیسی پارلیمنٹ میں انہیں علیحدگی پسند قرار دے کر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی میڈیا بھی مسلمانوں کو علیحدگی پسند کہہ رہا ہے جس کے باعث مسلمانوں کی روزمرہ زندگی کے معمولات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

پیرس کے ایک ہائی اسکول La Plaine-de-Neauphle  کی طالبہ کا کہنا ہے کہ ان کے فلسفے کے استاد Didier Lemaire نے الزام عائد کیا ہے مسلمان طلبہ نے انہیں دھمکی دی ہے لیکن یہ الزام سراسر جھوٹ ہے۔

طالبہ کا کہنا ہے کہ جس دھمکی کا زکر کیا جا رہا ہے اس میں کسی طرح کی سچائی نہیں ہے۔ فرانس میں عیسائی اور مسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اسکول کے اساتذہ کے الزامات سے مسلمان طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

پیرس کے نواحی علاقے ترپیس کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ فرانس میں ان کے لئے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو علیحدگی پسند قرار دینے سے یونیورسٹی میں ان کے داخلے کی درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں۔

تریپس میں گذشتہ سات سال سے ریسٹورنٹ چلانے والی ایک مسلم خاتون زلیخہ نے کہا کہ ان کے علاقے کو اسلام مخالف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ فرانسیسی سیاستدان اور میڈیا مسلمان اور اسلام مخالف جذبات کو ہوا دے رہا ہے۔

زلیخہ نے بتایا کہ مسلمان اس علاقے میں پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ سیاستدانوں اور میڈیا انہیں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے بدنام کر رہا ہے اور ہمارے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے سیاستدانوں اور میڈیا سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو الگ چھوڑ دیا جائے۔

علاقے کی ایک اور طالبہ کا کہنا ہے کہ پیرس کے نواحی علاقے میں مسلمان ایک سادہ اور عام سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم تمام فرانسیسی شہری ہیں۔ یہاں تمام شہریوں کو عزت کے ساتھ رہنے کی آزادی ہے لیکن مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔

زلیخہ نے کہا کہ تریپس میں بدھ مت کے ماننے والے، عیسائی، مسلمان اور خدا کے وجود کا انکار کرنے والے تمام عقائد کے لوگ پُرامن طور پر رہ رہے ہیں اور یہی بات فرانسیسی میڈیا اور سیاستدانوں کو کھٹک رہی ہے۔

تریپس میں رہنے والی خاتون Verstraeten Sylvie نے کہا کہ میں اس علاقے میں 32 سال سے اپنے بچوں اور پوتوں پوتیوں کے ساتھ رہ رہی ہوں اور اسکول میں فلسفے کے استاد کی طرف سے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سراسر جھوٹ پر مبنتی ہیں۔

سیاستدان کہتے ہیں کہ تریپس عرب عبادت گزاروں کا علاقہ بن چکا ہے۔ ہاں ایسا ہی ہے لیکن یہاں لاطینی فرانس کے لوگ بھی رہ رہے ہیں جو باقاعدگی سے گرجا گھروں میں عبادت کے لئے جاتے ہیں۔ یہاں دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی ہیں جو اپنی عبادت گاہوں میں جاتے ہیں پھر صرف مسلمانوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے حال ہی میں "فرانس کا اسلام” کے نام سے ایک ضابطہ اصول بنایا ہے اور مسلمانوں پر دباوٗ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس قانون پر دستخط کریں لیکن مسلمانوں نے اس قانون کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

استنبول میں شدید برفباری ، پیر سے بدھ تک اسکول بند

اگلا پڑھیں

فرانس: بے گھر افراد اور مہاجرین کے لئے مسجد کے دروازے کھول دیئے گئے

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے