turky-urdu-logo

قومی خودمختاری اور عید اطفال

تحریر : اسلم بھٹی

ترکیہ میں ھر سال 23 اپریل کو ” قومی خود مختاری اور عید اطفال ” کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ یہ دن قومی سطح پر بڑے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ دراصل یہ دن 23 اپریل 1920ء کی یاد میں منایا جاتا ہے جب ترکیہ میں گرینڈ نیشنل اسمبلی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ 23 اپریل کو ترکیہ بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے ۔ ملک کے طول و عرض میں مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں جن میں ملکی خود مختاری کی حفاظت اور قومی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کا اعادہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مستقبل کے معماروں یعنی بچوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ان کی بہتر تعلیم و تربیت، صحت اور دیگر ضروریات کی بہتر فراہمی پر بھی غور و خوض کیا جاتا ہے ۔

دن کا آغاز مسجدوں میں دعاؤں اور توپوں کی سلامی سے ہوتا ہے ۔ پارلیمنٹ ، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر قومی اور نجی اداروں میں خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن میں صدر ، وزراء اور ملک کی اہم ترین شخصیات شرکت کرتی ہیں ۔قومی اور ملی جوش و جذبے سے بھرپور پروگرامز منعقد ہوتے ہیں۔ بچوں کی تفریح کی سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ ترکیہ میں ایک اور روایت بھی ہے کہ اس روز بچوں کو ایک دن کے لیے یعنی 23 اپریل کے روز کسی بھی قومی یا نجی ادارے کا رسمی سربراہ بنایا جاتا ہے ۔ اس کا مقصد بچوں کو مستقبل میں آنے والی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کرنا اور اس بات کی اہمیت اجاگر کرنا ہے کہ وہ قوم و ملت کے لیے کتنے اہم ہیں اور آنے والے دنوں میں ان پر ملک و قوم کی ذمہ داریاں آنے والی ہیں ۔

23 اپریل 1920ء کو ترکیہ جمہوریہ کی تاریخ میں ایک اہم ترین سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس روز اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا نے گرینڈ نیشنل اسمبلی کا افتتاح کیا اور انہوں نے اس دن کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے قومی خود مختاری اور بچوں کے تہوار یا عید اطفال کے طور پر ہر سال منانے کا اعلان کیا ۔ یہ اتا ترک کی طرف سے بچوں کے لیے ایک تحفہ ہے ۔ اس سے اتا ترک کی بچوں کو دی جانے والی اہمیت کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ترکیہ کے ساتھ ساتھ شمالی قبرص میں بھی 23 اپریل قومی خود مختاری اور بچوں کے تہوار کے طور پر سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے اور یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا جاتا ہے۔

ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں آج بھی اتا ترک مصطفیٰ کمال پاشا کے یہ الفاظ سنہری حروف میں لکھے ہوئے ہیں ؛

” Egemenlik, kayıtsız şartsız milletindir .”

ترجمہ؛
” خودمختاری غیر مشروط طور پر قوم کے پاس ھے ۔”

اتا ترک نے 23 اپریل 1920ء کو گرینڈ نیشنل اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر اپنی پہلی تقریر میں یوں کہا تھا ؛

"Egemenlik, kayıtsız şartsız milletindir; millet bu hakkını Meclis aracılığıyla yürütür. Meclis’in üstünde bir güç yoktur.”

ترجمہ:
” خودمختاری غیر مشروط طور پر قوم کے پاس ھے، قوم یہ حق پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتی ھے۔ پارلیمنٹ سے اوپر کوئی طاقت نہیں ھے ۔”

یوں 23 اپریل ترکیہ میں نہ صرف ایک قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے بلکہ اسے نہایت تاریخی اور جمہوریت کے آغاز کا دن بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس روز بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تمام ممکن سہولیات مہیا کرنے کے بارے میں بھی غور و فکر کیا جاتا ہے ۔

اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ زندہ قومیں نہ صرف اپنی تاریخ کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں بلکہ اس کو بنیاد بنا کر ملک کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرتی ہیں۔

Alkhidmat

Read Previous

اورحان تاشکرن کی قیادت میں ترکش معارف فاؤنڈیشن کے وفد کی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے ملاقات

Read Next

امریکہ ہزاروں فلسطینیوں کے قاتل اسرائیل کو سیاسی تحفظ فراہم کرنا بند کرے،اسماعیل ہانیہ

Leave a Reply