Turkiya-Logo-top

فیکٹ چیک: کیا صدر رجب طیب ایردوان کے کہنے پر عمران خان رہا ہوگئے ہیں؟

فیکٹ چیک: عباس میو

ترکیہ میں سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان کے کہنے پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے رہا کر دیا ہے

ترکیہ سے منسلک بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسی پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ رجب طیب ایردوان نے عمران خان کی رہائی کے لیے مداخلت کی اور ان کی ہدایت پر شہباز شریف حکومت نے سابق وزیراعظم کو رہا کر دیا۔

کچھ پوسٹس میں اس دعوے کو پاکستان اور ترکیہ کے قریبی تعلقات اور ایردوان کی عمران خان سے سابقہ قربت سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

تاہم ان دعوؤں کے ساتھ نہ کسی سرکاری حکم کا حوالہ دیا گیا ہے، نہ کسی عدالتی فیصلے کا، اور نہ ہی وزیراعظم ہاؤس یا ترک صدر کے دفتر کی جانب سے ایسا کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے۔

رجب طیب ایردوان نے وزیراعظم شہباز شریف سے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا؟

ایردوان اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں اور رابطوں کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات میں پاکستان اور ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر گفتگو کا ذکر کیا گیا، لیکن عمران خان کی رہائی کے لیے اردوان کی کسی درخواست یا ہدایت کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے ترک سرکاری اعلامیے میں بھی دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی معاملات کا ذکر کیا گیا، تاہم عمران خان کی رہائی سے متعلق کوئی فیصلہ یا مطالبہ درج نہیں کیا گیا۔

یہ بھی اہم ہے کہ عمران خان اور رجب طیب ایردوان سے متعلق گمراہ کن مواد اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے۔

فروری 2025 میں ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ ایردوان عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعد میں اے ایف پی فیکٹ چیک نے ویڈیو کا جائزہ لیا اور بتایا کہ فوٹیج ایڈٹ شدہ تھی جبکہ اصل ویڈیو 2020 کی تھی۔

اسی طرح جون 2026 میں پاکستان کے فیکٹ چیک پلیٹ فارم نے عمران خان کی جلد رہائی سے متعلق ایک اور وائرل دعوے کی تحقیقات کی اور اسے غلط قرار دیا تھا۔

یعنی عمران خان کی سیاسی صورتحال سے متعلق غیر مصدقہ اور گمراہ کن دعوے سوشل میڈیا پر پہلے بھی گردش کرتے رہے ہیں۔

عمران خان کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق معاملات بھی مختلف عدالتی کارروائیوں میں زیر بحث آتے رہے ہیں۔ ان کے وکلا کی جانب سے صحت کی بنیاد پر اور انسانی ہمدردی کے تحت رہائی کے مطالبات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اس وقت کہاں ہیں؟

دستیاب معلومات کے مطابق سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں موجود ہیں ان کی رہائی کے حوالے گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں تاہم عمران خان کی صحت کے حوالے سے سپرنٹنڈنٹ اڈیالاجیل کی جانب سے 2 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی اور بتایا کہ متعدد سرکاری معالجین عمران خان کا چیک اپ کرتے ہیں

رپورٹ میں ہائیکورٹ کےفیصلے میں سلمان اکرم راجہ کی جانب سےعدالت میں دی گئی یقین دہانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے کہا تھا ملاقات کےبعد جیل احاطے میں میڈیا سےگفتگو نہیں کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق عدالتی حکم نامے کے باجود میڈیا ٹاک کر کے خلاف ورزی کی گئی، اسلام آبادہائیکورٹ کاسنگل بینچ شیرافضل کیس میں جیل رولز 265 کو خلاف قانون قرار دے چکا ہے، جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، فارن پالیسی، قانون نافذکرنے والی ایجنسیوں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا

دستیاب سرکاری، عدالتی اور معتبر میڈیا رپورٹس کے جائزے سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوتی تازہ دستیاب معلومات کے مطابق عمران خان کی رہائی کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا اور وہ بدستور اڈیالہ جیل میں قید ہیں
لیکن یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ رہائی کا مطالبہ، رہائی کے حتمی فیصلے کے برابر نہیں ہوتا، کسی قیدی کی رہائی کی تصدیق کے لیے عدالت، حکومت یا متعلقہ جیل حکام کی باضابطہ اطلاع ضروری ہوتی ہے

Read Previous

ترکیہ میں پاکستان کا 79واں یومِ آزادی، پاکستان ہاوس میں شاندار تقریبات

Read Next

افغانستان پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے، افغان سفیر کا اسلام آباد میں یوم فتح تقریب سے خطاب

Leave a Reply