اسلام آباد میں افغان سفیر سردار احمد شکیب نے عبوری حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک خطاب میں کہا ہےکہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا ماحول دباؤ یا طاقت سے نہیں بلکہ باہمی سمجھ بوجھ، مسلسل مذاکرات اور مخلصانہ تعاون سے قائم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان اختلافات ہونا فطری بات ہے، تاہم ان اختلافات کو دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے مزید دور نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول مسائل کا حل بات چیت، باہمی احترام اور سیاسی دانش مندی میں ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
افغان سفیر نے کہا کہ افغانستان کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کی پالیسی نہیں رکھتا اور نہ ہی اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کی سلامتی کے خلاف استعمال ہونے دیتا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو سمجھا اور ان کا احترام کیا جائے گا اور کوئی ملک اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو افغانستان میں پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ایک ٹیم نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ طالبان حکومت کا یہ مؤقف قابلِ اعتبار نہیں کہ افغانستان میں یا وہاں سے کوئی مسلح گروہ سرگرم نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان میں کئی بڑے حملے کیے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی کشیدگی کئی برس سے جاری ہے اور گزشتہ برس سرحد پر شدید جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا اثر تجارت پر بھی پڑا ہے۔ پاکستان نے اکتوبر 2025 سے افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے لیے سرحدی گزرگاہیں بند کر رکھی ہیں اور افغان ٹرانزٹ کارگو کی نقل و حرکت بھی روک دی ہے، تاہم بعض انسانی امدادی سامان کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر، ترکی اور چین نے کئی مرتبہ سفارتی کوششیں کی ہیں، تاہم ٹی ٹی پی اور سرحد پار عسکریت پسندی کے معاملے پر بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
افغان سفیر سردار احمد شکیب نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ ایسے تعلقات چاہتا ہے جو خودمختاری کی برابری، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہوں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کا مقصد ایسا ملک بننا ہے جو جغرافیائی اور سیاسی مقابلے کا میدان بننے کے بجائے خطے میں رابطے، تجارت، ٹرانزٹ، مذاکرات اور تعاون کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرے۔
