ارطغرل فریگیٹ، ترکی اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کا سنگ میل

KUSHIMOTO, JAPAN – JUNE 03: A bronze model of the Ottoman Ertugul is displayed prior to the commemoration ceremony to mark the 125th anniversary of the Ottoman frigate Ertugrul sinking on June 3, 2015 in Kushimoto, Wakayama, Japan. The Ottoman Navy frigate sunk in September 1890 off Kushimoto, though 69 officers and sailors were rescued, 533 Turkish sailors lost their lives. (Photo by The Asahi Shimbun via Getty Images)

اکتوبر 1887

جاپان کے شاہی خاندان کے شہزادے کومیتسو یورپ کے دورے کے دوران استنبول پہنچے

1889

جاپانی شہزادے کے دورے کے بعد خیر سگالی کے طور پر سلطنت عثمانیہ نے اپنا بحری جہاز ارطغرل جاپان بھیجا

جولائی 1889 میں ارطغرل بحری جہاز نے استنبول سے جاپان کے لئے سفر شروع کیا۔ جہاز میں 609 افراد سوار تھے

7 جون 1890

ارطغرل فریگیٹ 11 ماہ کا سفر طے کرنے کے بعد 7 جون 1890 کو جاپان کے یوکوہاما ساحل پر پہنچا

جاپانی شہنشاہ میجی نے ترک وفد کا استقبال کیا جو عثمان پاشا کی قیادت میں جاپان پہنچا تھا

جاپانی شہنشاہ کو سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ سلطان عبدالحمید دوئم کی طرف سے بھیجے گئے میڈل، تحائف اور خط پیش کیا گیا

15 ستمبر 1890

جاپان میں مختلف سفارتی اجلاس کے بعد ارطغرل فریگیٹ نے یوکوہاما کے ساحل سے ترکی کے لئے سفر شروع کیا

16 ستمبر 1890

ارطغرل فریگیٹ ہونشو جزیرے کے جنوب کی طرف سفر کرتا ہوا 16 ستمبر کی شام کوشی موتو کے ساحل کے قریب پہنچا

یہاں ارطغرل فریگیٹ کو ستمبر میں آنے والے سمندری طوفان نے گھیر لیا۔ یہ سمندری طوفان ہر سال ستمبر میں آتا ہے

سمندری طوفان کے باعث ارطغرل فریگیٹ ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر بحیرہ اوقیانوس کے پانیوں میں ڈوب گیا

سلطنت عثمانیہ کے 500 آفیسرز اس بحری حادثے میں جاں بحق ہو گئے جبکہ 69 مسافروں کو بچا لیا گیا

1891

ارطغرل فریگیٹ کے المناک انجام کے بعد ترکی اور جاپان کے درمیان دوستانہ تعلقات شروع ہوئے

ارطغرل فریگیٹ کے حادثے کے بعد کوشی موتو میں ایک یادگار تعمیر کی گئی

ہر سال اس یادگار پر خاص تقریبات منعقد کی جاتی ہیں

1937 سے ہر سال یہاں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے

Read Previous

برازیل کے مڈ فیلڈر جوزف ڈی سوزا ترکش کلب بیسیکتاس میں شامل

Read Next

شائقین کا انتظار ختم،ارطغرل غازی کے دوگان الپ اسلام آباد پہنچ گئے

Leave a Reply