ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے 15 جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کو ملک کی جدید تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سازش کو ناکام بنانا ترکیہ صدی کے لیے آزادی کے اعلان کے مترادف تھا ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف حکومت کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ ترکیہ کی آزادی، خودمختاری اور جمہوری نظام پر حملہ تھا۔
جمہوریت اور قومی اتحاد کے دن کی دسویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر ایردوان نے کہا کہ 15 جولائی وہ رات تھی جب ترک عوام نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جمہوریت، قومی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کا دفاع کیا۔ ان کے مطابق لاکھوں شہری ان کی اپیل پر سڑکوں پر نکل آئے اور ایسا جذبہ دکھایا جو ترکی کی جنگِ آزادی کی یاد تازہ کرتا ہے
صدر ایردوان نے بتایا کہ بغاوت کو ناکام بنانے کی جدوجہد میں 253 افراد شہید ہوئے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو مزاحمت کی دعوت دینا دراصل ان کے جمہوری شعور، بہادری اور وطن سے محبت پر اعتماد کا اظہار تھا
انہوں نے گزشتہ دس برسوں کے دوران فتح اللہ کالعدم تنظیم (FETO) کے خلاف کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بیوروکریسی، فوج، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں سے اس تنظیم کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائیاں کیں تاہم یہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔
صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسی خفیہ تنظیموں کو دوبارہ ریاستی اداروں میں جگہ بنانے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ 15 جولائی کے جذبے، قومی اتحاد اور جمہوری شعور کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک دہائی بعد ترکیہ پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور پُراعتماد ہو کر سامنے آیا ہے اور ملک دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے ان کے بقول جب تک 15 جولائی کا جذبہ زندہ رہے گا ترکیہ کے خلاف سازشیں اور انہیں حمایت دینے والی قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اپنے پیغام کے اختتام پر صدر رجب طیب ایردوان نے 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ملک کے اتحاد، استحکام اور جمہوری نظام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
