Turkiya-Logo-top

او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس، مسلم دنیا میں خواتین کے حقوق اور بااختیار بنانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر زور

اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے زیر اہتمام خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک کے وزراء، اعلیٰ حکومتی نمائندوں، سفارتکاروں، بین الاقوامی اداروں اور خواتین کی ترقی سے وابستہ تنظیموں کے مندوبین نے شرکت کی۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد مسلم دنیا میں خواتین کے حقوق کے تحفظ، تعلیم، صحت، معاشی خودمختاری، قیادت، روزگار، قانونی تحفظ اور فیصلہ سازی میں خواتین کی مؤثر شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ پالیسی مرتب کرنا اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا

"خواتین کو بااختیار بنانا پائیدار ترقی، مضبوط معیشت اور مستحکم معاشروں کی بنیاد ہے، اس پلیٹ فارم کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے مسلم دنیا کی ہر بچی کو معیاری تعلیم، بہتر صحت، معاشی مواقع اور قیادت تک رسائی یقینی بنائیں گے”

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ او آئی سی کو خواتین کے حقوق سے متعلق صرف اعلانات اور قراردادوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ قابلِ عمل منصوبے، واضح اہداف اور مؤثر احتسابی نظام تشکیل دینا ہوگا تاکہ خواتین کی زندگیوں میں حقیقی اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکے۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کانفرنس کی صدارت سنبھالتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواتین کی قیادت، کاروباری سرگرمیوں، مالیاتی شمولیت، انصاف تک رسائی اور محفوظ کام کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا ہے، جبکہ او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ اقدامات کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل ڈاکٹر طارق علی بخیت، ویمن ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (WDO) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ الشورہ، مصر کی نیشنل کونسل فار ویمن کی صدر امل عمار اور دیگر مقررین نے خواتین کی تعلیم، معاشی خودمختاری، سیاسی و سماجی قیادت، مالی شمولیت اور صنفی مساوات کو مسلم دنیا کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

شرکاء نے فلسطین، افغانستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں تنازعات سے متاثرہ خواتین کی مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ او آئی سی انسانی بنیادوں پر ان خواتین کی مدد، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

کانفرنس کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ رکن ممالک ایک دوسرے کے کامیاب تجربات سے فائدہ اٹھائیں، خواتین کی ترقی کے لیے مشترکہ منصوبے تشکیل دیں، سرمایہ کاری بڑھائیں اور ایسی پالیسیاں اختیار کریں جن کے ذریعے خواتین کو تعلیم، روزگار، کاروبار، ٹیکنالوجی اور فیصلہ سازی میں مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
اس موقع پر پاکستان نے او آئی سی کی موجودہ سربراہی سنبھالتے ہوئے رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون اور خواتین کی فلاح و ترقی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

Read Previous

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ، صدر ایردوان اور ترک عسکری قیادت سے اہم ملاقات

Leave a Reply