fbpx

یونان مشرقی بحیرہ روم میں تصادم کی راہ نہ اپنائے، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے یونان پر زور دیا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہ روم میں تنازعات کو ہوا نہ دے جس سے دونوں ملکوں میں مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

انقرہ میں یورپین یونین کے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یونان سے کہا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو خطے میں بحران کی شکل اختیار کر جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی اور یونان کے درمیان 25 جنوری سے شروع ہونے والے مذاکرات ایک نئے دور کا آغاز ہوں گے۔

ترکی اور یونان کے وزرائے خارجہ کے درمیان 25 جنوری کو انقرہ میں مشرقی بحیرہ روم پر مذاکرات شروع ہوں گے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات خوش آئند ہیں اور اس سے مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک نئی جہت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم کے پانیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے کے لئے استعمال کرنے کے بجائے اس سے تمام ممالک طویل مدتی فائدے حاصل کریں۔

یونان اور ترکی کے درمیان مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کے لئے ڈرلنگ پر بات چیت 2002 میں شروع ہوئی تھی۔ 2016 تک دونوں ملکوں کے درمیان اس مسئلے پر مذاکرات کے 60 دور مکمل ہوئے تھے لیکن ابھی تک مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ دونوں ملکوں نے اس تنازعے کو حل کرنے کے لئے بات چیت کا آغاز دوبارہ کیا ہے اور 25 جنوری کو ترکی اور یونان کے وزرائے خارجہ میں اہم ملاقات ہو گی۔

پچھلا پڑھیں

ترک ماہر نفسیات آذربائیجان میں جنگ سے متاثرہ افراد کا علاج کریں گے

اگلا پڑھیں

ترکی واٹس ایپ کے نئے اصولوں پر نظر ثانی کرئے گا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے