برف پگھلنے لگی، صدر ایردوان اور فرانسیسی صدر میکرون کا ٹیلی فونک رابطہ

صدر رجب طیب ایردوان اور فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوئی جس میں مشرقی بحیرہ روم سمیت دونوں ملکوں کے تعلقات پر بات چیت ہوئی۔

دونوں رہنماوٗں کے درمیان رابطے کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ حالیہ کچھ دنوں سے مشرقی بحیرہ روم کے سمندری حدود کے تنازعے پر ترکی اور فرانس کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

فرانسیسی صدر میکرون یونان کی حمایت میں بیان دیتے رہے اور صدر ایردوان کی زات پر سخت تنقید کرتے رہے۔ صدر ایردوان نے بھی اپنے خطاب میں بارہا فرانسیسی صدر میکرون کو سخت الفاظ میں جواب دیئے۔

صدر ایردوان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی بحیرہ روم کی سمندری حدود کے تنازعے کو سفارتی سطح پر بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے فرانسیسی صدر میکرون پر واضح کیا کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی اور ترک قبرص کے قانونی حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جو تنازعے کی اصل وجہ ہے۔

انہوں نے صدر میکرون سے کہا کہ سفارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایک پائیدار مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے تاکہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی تمام مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتا ہے۔

صدر ایردوان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی فرانس کی طرف سے ایک مضبوط اور لچکدرا رویئے کا خواہاں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ اور ٹھوس بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔

صدر ایردوان نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ہفتے یورپین یونین کے سربراہ اجلاس میں خطے کے مسائل حل کرنے پر جامع اور ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔

یورپین یونین کا سربراہ اجلاس یکم اور دو اکتوبر کو برسلز میں ہو گا۔

واضح رہے کہ ترکی اور فرانس کے صدور کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ صدر ایردوان اور جرمن چانسلر اینجلا مرکل کی ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کے بعد ہوا ہے۔ ترکی یورپین یونین کے سربراہوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مشرقی بحیرہ روم کی سمندری حدود کا معاملہ حل کیا جائے۔

Read Previous

مودی کی سالگرہ منانا مہنگا پڑ گیا

Read Next

صدر ایردوان کی جرمن چانسلر اور یورپین یونین کے رہنماوٗں سے ویڈیو لنک کانفرنس

Leave a Reply