ترکی میں اسلامی اقدار کے احیاء کے لئے ترک نوجوانوں کی تنظیم ایلکے نے مرکزی کردار ادا کیا

سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی کو جبراً سیکولر ریاست بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ 20 ویں صدی کے آغاز میں جنگ عظیم اول کے بعد ترکی میں اسلام پسندوں پر سختیاں شروع ہوئیں۔ مساجد کو تالے لگا دیئے گئے، عربی میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد ہو گئی اور کوشش کی گئی کسی طرح ترک عوام سے اسلام کو خارج کر دیا جائے۔ ایسے میں بہت سی تحریکیں شروع ہوئیں جو معاشرے میں اسلامی اقدار کے احیاء کے لئے کام کرتی رہیں۔

ترکی پر چونکہ آمروں کی طویل حکومت رہی جس سے حالات مزید خراب ہوئے۔ ایسے میں 1980 میں ترک نوجوانوں نے ایک دینی تحریک کا آغاز کیا جس کا نام "توحید” رکھا گیا۔ اس تحریک کو استنبول میں 1980 میں "ترکی وقف” کے نام سے رجسٹر کروایا گیا۔

ایلکے فاؤنڈیشن کے ایک وفد نے ترکی اردو کے دفتر کا دورہ کیا، وفد میں ایلکے فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جنرل عبداللہ سرنلی اور انٹرنیشنل آؤٹ ریچ ایگزیکٹو احسن شفیق نے ترکی اردو کے ایگزیکٹو ایڈیٹر محمد حسان سے ملاقات کی۔

اس موقع پر ایلکے فاؤنڈیشن سے متعلق بات کرتے ہوئے عبداللہ سرنلی نے کہا کہ دنیا بھر میں جدیدیت اور ترکی میں سیکولرازم کی جو لہر آئی تھی اس سے عوام کو بچانے کے لئے عملی اقدامات شروع کئے گئے۔ سیاسی جماعتیں پہلے ہی فوجی حکومتوں کے عتاب کا شکار تھیں اور سیاسی جماعتوں کے لئے اسلامی اقدار کو زندہ کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ایسے میں کچھ نوجوانوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور ترکی میں اسلام کے احیاء کے لئے کام شروع کیا۔

ترکی وقف کو بعد ازاں ایک فاؤنڈیشن میں بدل دیا گیا جس کا نام "ایلکے” رکھا گیا۔ اس تنظیم نے ترک نوجوانوں میں اسلامی اقدار کے احیاء کے لئے کام کیا۔ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو اسلامی اقدار میں بدلنے پر کام شروع کیا گیا۔ فاؤنڈیشن نے مختلف تعلیمی اداروں میں پروفیشنل نیٹ ورکنگ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ جب ترک عوام میں اس کام کی پذیرائی شروع ہوئی تو پھر اس کا دائرہ پورے ترکی تک پھیلا دیا گیا۔

عبداللہ سرنلی نے بتایا کہ ایسے میں ضروری تھا کہ ایک ہی مرکزی تنظیم کو مختلف شاخوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ہر شعبہ زندگی میں لوگوں سے رابطوں کو بڑھایا جائے اور عوام کو اسلامی اقدار سے متعلق تعلیم دی جائے۔

سال 2000 میں یکدر (Yekder) کے نام سے ایک ایسوسی ایشن بنائی گئی۔ اس پلیٹ فارم سے اسکول جانے والے چھوٹے بچوں کو اسلام کی ابتدائی تعلیم دینا شروع کی گئی جس میں نماز، روزہ اور اس طرح کی بنیادی چیزیں بچوں کو پڑھانا شروع کی گئیں۔ اس ایسوسی ایشن نے اسکولوں کے نصاب میں تبدیلی کے لئے بہت کام کیا جس کے باعث تعلیمی نصاب میں اسلام کے بنیادی عقائد کو شامل کیا گیا۔

اسی ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے خواتین کو بھی تعلیم دی گئی کہ وہ کس طرح گھروں میں اپنے بچوں میں اسلامی عقائد کو پروان چڑھا سکتی ہیں۔
ایلکے کے سیکریٹری جنرل عبداللہ سرنلی کہا کہ ایلکے نے اپنے دائرہ کو وسیع کرتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کے لئے بھی الگ ایسوسی ایشنز بنائیں جس میں تاجروں کے لئے ایک تنظیم اگیاد (Igiad) بنائی گئی جس میں تاجروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق تجارت کی طرف راغب کیا گیا۔
ایک الگ ایسوسی ایشن عِلم (Ilem) کے نام سے بنائی گئی۔ اس ایسوسی ایشن نے تعلیمی نصاب میں اسلامی اقدار اور عقائد کو شامل کرنے کے لئے بڑا کام کیا
2010 میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والی تمام ایسوسی ایشنز اور تنظیموں کو ایلکے کے ماتحت کر دیا گیا۔

ترکی اردو سے بات کرتے ہوئے ایلکے کے انٹرنیشنل آؤٹ ریچ ایگزیکٹو احسن شفیق نے بتایا کہ ایلکے کے زیر انتظام تین ریسرچ سینٹرز بنائے گئے جن میں ایک ایکام Ikam ہے۔ اس ریسرچ سینٹر نے اسلامی فنانس پر بہت کام کیا کہ کس طرح سودی کاروبار اور تجارت سے جان چھڑا کر اسلامی اصولوں کے مطابق فنڈز اکٹھے کئے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سماجی سوچ کو بدلنے کے لئے ایک ریسرچ سینٹر تودام Todam بنایا گیا۔ اس کے بعد ملک میں تعلیمی پالیسی کو اسلامی اصولوں پر تیار کرنے کے لئے ایک ریسرچ سینٹر ایپام Epam کے نام سے بنایا گیا۔ اس ریسرچ سینٹر نے نصاب میں تبدیلیوں کی نشاندہی کی جس کے بعد موجودہ حکومت نے بھی اس ریسرچ سینٹر کی کئی سفارشات کو عملی جامہ پہنایا۔

Read Previous

علی شاہین درحقیقت ترکی میں پاکستان کے سفیر ہیں، پاکستانی سفیر سائرس سجاد

Read Next

پاکستان: غیر ملکی سرمایہ کاروں کو شہریت دینے کا فیصلہ

Leave a Reply