علی شاہین درحقیقت ترکی میں پاکستان کے سفیر ہیں، پاکستانی سفیر سائرس سجاد

پاکستان کی کراچی یونیورسٹی سے  فارغ التحصیل ہونے اور اپنے آپ کو پاکستانی کہلوانے پر فخر محسوس کرنے والے ترکی کی قومی اسمبلی میں غازی انتیپ شہر سے رکن پارلیمنٹ  اور پارلیمنٹ  میں پاکستان دوستی گروپ کے چئیرمین علی شاہین  نے سفیر پاکستان محمد سائرس سجاد قاضی کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔

پارلیمنٹ کےباغیچے میں واقع ریسٹورانٹ میں علی شاہین  نے سفیر پاکستان کا استقبال  کیا اور اراکین پارلیمنٹ سے  ان کا تعارف کروایا۔

ظہرانے کی اس تقریب میں اراکین پارلیمنٹ، سفارتخانہ پاکستان کے سفارتکاروں  اور دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر علی شاہین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  وہ پاکستان  سے محبت ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی محبت میں اپنی جان تک نچھاور  کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی کراچی یونیورسٹی ہی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور پاکستان کے قیام کے دوران انہیں جو محبت اور چاہت ملی ہے وہ ان کی زندگی کا اثاثہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ترکی  میں اپنی زندگی پاکستان کی محبت ہی میں گزار رہے ہیں۔ وہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات دنیا میں بے نظیر حیثیت کے حامل ہیں ۔ وہ ان تعلقات کو  فروغ دینے کے لیے اپنی جدو جہد کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ پاکستان کی طرح ترکی کا بھی مسئلہ ہے اور صدر ایردوان ہمیشہ ہی مسئلہ کشمیر کے بارے میں تمام ترکوں کی طرح پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے چلے آرہے ہیں۔

اس موقع پر سفیر پاکستان جناب محمد سائرس سجاد قاضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی شاہین ترکی میں پاکستان کے حقیقی سفیر ہیں اور ان کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی جس طرح ترکی کھل کر پاکستان کی حمایت کررہا ہے ہم صدر ایردوان ، ترک حکام اور  ترک  باشندوں  کے شکر گزار ہیں۔ ترکی دنیا کی پرواہ کیے بغیر جس نڈر طریقے سے  پاکستان کی حمایت کرتا ہے اس سے دونوں ممالک  کے تعلقات کو مزید فروغ دینے اور ایک دوسرے کے قریب لانے کا موقع میسر  آتا ہے۔ ترکی اور پاکستان تمام بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ایک دوسرے کی کھل کر حمایت کرتے ہیںاور یہی وجہ ہے دنیا ترکی اور پاکستان کے تعلقات پر رشک کرتی ہے۔

ظہرانے  کے اختتام پر  علی شاہین نے سفیر پاکستان کویادگار کے طور پر  سوئنیر پیش کیا ۔ تقریب کے اہتمام  پر ظہرانے میں  شریک افراد کے ساتھ گروپ فوٹو  لی گئی ۔

Read Previous

ترکی کی منی سیٹلائٹ گریزو (263-A) کوخلا میں بھیج دیا گیا

Read Next

ترکی میں اسلامی اقدار کے احیاء کے لئے ترک نوجوانوں کی تنظیم ایلکے نے مرکزی کردار ادا کیا

Leave a Reply