33،000 سالوں سےزمین کا تابکار اسٹار ڈسٹ کے بادلوں سے گزرنے کا انوکھا سفر

کائنا ت قدرت کے انوکھے رازوں  کا ایک بہت بڑا خزانہ ہے جو اپنے اندر قدرت کے ان گنت رازوں کو چھپائے بیٹھا ہے۔اکیسوی صدی میں رہنے والے انسان چاہےجتنی مرضی ترقی یافتہ ہو جائیں مگر جب بھی وہ قدرت کو اور کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں تو قدرت کے ایسے انوکھے راز سامنے آتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کی نظر دنگ رہ جاتی ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق زمین گذشتہ 33،000 سالوں سے ایک پھٹے ہوئے ستارے کے پیچھے  رہ جانے والے ایک بڑے انٹرسٹیلر بادل سے گزر رہا ہے۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنس   میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات صاف  صاف ظاہر ہے  کہ سمندر میں موجود  تابکاری  مٹی اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کئی ہزار سالوں سے  پھٹے ہوئے ستارے کے پیچھے رہ جانے والے ایک بڑے انٹر سٹیلر بادل سے گزر رہی ہے۔

سائنسدان  بحر ہند کے دو مختلف حصوں کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ  زمین  پر ایک عرصے   سے خلا میں ٹوٹے ہوئے ستاروں کے حسوں کی بارش ہو رہی ہے جن کی شکل آئرن آیسوٹوپ  جیسی ہے۔

آیسوٹوپ آئرن 60 کی نصف حیات تقریبا 25 لاکھ سال کے قریب ہے۔آیسوٹوپ بڑے پیمانے پر خلائی دھماکوں میں تیار ہوتا ہے  جیسے سپر نووا  مگر اسکی بہت ہی باریک زراعت زمین تک پہچنے کی طچاقت رکھتے ہیں جنہیں عام انسانی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سمندر میں پائے جانے والی  یہ تابکاری مٹی ایک لمبے عرصے کی تاریخ رکھتی ہے۔

تحقیق میں اس بات کی بھی نشاندہی  کی گئی ہے کہ  اگست 2019 میں ٓئرن 60 انٹارٹکا کی برف میں بھی  پایا گیا تھا۔ اور سائنسدانوں کے مطابق یہ  آئرن 60 کم از کم 20 سال پورانا ہے۔

2016 میں این ای ایس ای ناسا  نے اپنی ایک رپورٹ میں  بتایا تھا کہ زمین کی بہت سی جگہوں پر نایاب آیسوٹوپ پائے جاتے ہیں۔

Read Previous

ترکی نے 11 ستمبر تک مشرقی بحیرہ روم میں مشقیں جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

Read Next

اسرائیلی پولیس نے تین فلسطینی خواتین کو گرفتار کر لیا

Leave a Reply