Turkiya-Logo-top

دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا "چلو سنسد” مارچ، پولیس کا لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نکالے گئے "چلو سنسد” مارچ کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا

شدید بارش اور سخت سیکیورٹی انتظامات کے باوجود ہزاروں افراد جنتر منتر پر جمع ہوئے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات، امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کی شفاف تحقیقات اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

احتجاج کے پیش نظر دہلی پولیس نے پارلیمنٹ جانے والے متعدد راستے بند کر دیے، مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور عوامی اجتماعات پر پابندی نافذ کر دی۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث جن پتھ، پٹیل چوک، راجیو چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ اور سیوا تیرتھ سمیت کئی اہم میٹرو اسٹیشن بھی عارضی طور پر بند کر دیے گئے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس کے مطابق مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، تاہم بڑی تعداد میں کارکن جنتر منتر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ بعد ازاں جب بعض مظاہرین نے پولیس کی قائم کردہ رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی تو سیکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔

رپورٹس کے مطابق احتجاج میں تقریباً 20 ہزار افراد شریک تھے۔ جھڑپوں کے دوران چند مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ وسطی دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر متاثر رہی۔

دوسری جانب CJP نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ شدید بارش اور سخت سیکیورٹی کے باوجود کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے آئین سے اظہارِ یکجہتی کا پیغام جاری کیا، جبکہ پارٹی ترجمان سورَو داس نے کارکنوں سے پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اسی دوران سماجی کارکن سونم وانگچک جنہیں طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا نے اپنے تحریری بیان میں واضح کیا کہ وہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک حکومت امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور تعلیمی نظام کی مبینہ ناکامیوں پر جواب دہی قبول نہیں کرتی یا پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔

کاکروچ جنتا پارٹی جس کا آغاز رواں سال مئی میں ایک طنزیہ ڈیجیٹل مہم کے طور پر ہوا تھا اب تعلیمی اصلاحات اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ایک نمایاں عوامی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے اس تحریک کو سوشل میڈیا پر وسیع پذیرائی ملی ہے جبکہ مختلف سماجی کارکن، طلبہ اور دیگر حلقے بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں

Read Previous

آر ایس ایس کی سرپرستی میں بننے والے بھارتی قوانین مسلمانوں اور اقلیتوں کو نشانہ جبکہ ہندوؤں کو قانونی فائدہ دیتے ہیں: بھارتی ماہرِ سیاسیات

Read Next

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملاقات

Leave a Reply