بھارت کی معروف ماہرِ سیاسیات اور شہریت کے قوانین کی اسکالر پروفیسر نرجا گوپال جیال نے کہا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارتی شہریت کے قوانین میں کی گئی ترامیم نے مذہب کو قانونی بنیاد فراہم کرتے ہوئے مساوی شہریت کے آئینی تصور کو کمزور کیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے امتیازی قانونی ڈھانچہ تشکیل پایا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اپنے ایک تجزیاتی بیان میں پروفیسر نرجا گوپال نے کہا کہ 2003 میں شہریت ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے ذریعے بظاہر "غیر قانونی تارکِ وطن” کی اصطلاح متعارف کرائی گئی، لیکن عملی طور پر اس کے ذریعے مذہبی بنیاد پر ایک نئی قانونی تقسیم پیدا ہوئی۔ ان کے مطابق بعد ازاں قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے پاکستان سے بھارتی ریاستوں گجرات اور راجستھان آنے والے ہندو تارکینِ وطن کو اس زمرے سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا، جس سے مذہبی امتیاز کو واضح قانونی شکل مل گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 2003 کی اسی ترمیم کے تحت نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) اور نیشنل رجسٹر آف انڈین سٹیزنز (این آر آئی سی) جیسے اقدامات کی بنیاد بھی رکھی گئی، جنہوں نے شہریت کے تعین کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
ان کے مطابق 2019 کے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) نے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور مسیحی تارکینِ وطن کے لیے بھارتی شہریت کے حصول کا تیز رفتار راستہ فراہم کیا، جبکہ مسلمانوں کو اس قانون کے دائرہ کار سے خارج رکھا گیا۔ ان کے بقول اس ترمیم نے پہلی مرتبہ بھارتی سیکولر قانون میں مذہب کی بنیاد پر واضح تفریق متعارف کرائی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے کہا کہ 2003 اور 2019 کی ترامیم کے مجموعی اثرات نے بھارتی آئین میں درج آفاقی اور مساوی شہریت کے تصور کو کمزور کرتے ہوئے اس کی جگہ مذہبی بنیادوں پر درجہ بند شہریت کے نظام کو فروغ دیا، جہاں مختلف مذہبی برادریوں کے لیے الگ قانونی معیار اختیار کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی قوانین میں "غیر قانونی تارکِ وطن” اور "پناہ گزین” کے درمیان قائم قانونی تفریق امتیازی نوعیت رکھتی ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے تاکہ شہریت اور انسانی تحفظ کے معاملات مذہب کے بجائے مساوات اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق طے کیے جا سکیں۔
پروفیسر نرجا گوپال جیال بھارت کی ممتاز ماہرِ سیاسیات، آئینی امور اور شہریت کے قوانین کی محقق ہیں، جن کی تحقیق بھارتی جمہوریت، سیکولرازم، شہریت اور آئینی حقوق پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ قانونی تبدیلیوں نے آر ایس ایس کے نظریاتی تصور کے مطابق ایسا نظام تشکیل دیا ہے جس میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ ہندوؤں کو قانونی رعایت اور ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
