نئی دہلی میں ہفتے کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کے سینکڑوں حامی سڑکوں پر نکل آئے اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی۔ یہ احتجاج اس طنزیہ سوشل میڈیا تحریک کا پہلا بڑا عوامی مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے آن لائن توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی ایک سوشل میڈیا طنز کے طور پر شروع ہوئی تھی جو بھارت کی روایتی سیاست اور خاص طور پر حکمران جماعت پر تنقید کے انداز میں سامنے آئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو گئی اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں فالوورز بن گئے۔
احتجاجی ریلی پارلیمنٹ کے قریب منعقد ہوئی جہاں شرکاء نے مختلف نعرے لگائے، جن میں “کاکروچ آ رہے ہیں، دھرمیندر پردھان جا رہے ہیں!” شامل تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی نظام میں مسائل کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔

ریلی کے منتظمین نے شرکاء کو قومی پرچم اور کتاب ساتھ لانے کی ہدایت کی تاکہ تعلیم اور مساوی مواقع کی علامت کو اجاگر کیا جا سکے۔ پولیس نے احتجاج سے قبل اہم مقامات پر سیکیورٹی سخت کر دی تھی اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے تھے۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تحریک سوشل میڈیا سے شروع ہو کر نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری اور بے روزگاری کے خلاف غصے کی عکاسی کرتی ہے، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا یہ آن لائن مقبولیت حقیقی سیاسی طاقت میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔

حکومت کے حامیوں نے اس تحریک کو محض ایک سوشل میڈیا رجحان قرار دیا ہے جبکہ نوجوان مظاہرین اسے ایک حقیقی یوتھ موومنٹ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
