ماحولیاتی تبدیلی 21 ویں صدی میں دنیا کا نقشہ بدل دے گی، ترک سائنسدان

رواں صدی میں عالمی جنگیں نہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلی دنیا کا نقشہ بدل دے گی۔

استنبول ٹیکنیکل یونیورستی کے ترکش پولر ریسرچ سینٹر کی سابق سربراہ برجو اوزسائے نے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنی روزمرہ کی عادات کو تبدیل اور ماحول کی حفاظت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی عادات اور پیداواری طریقے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل کی پیشگوئی سائنسی اعداد و شمار کے مطابق کی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ماحولیاتی تبدیلی کو دنیا کا نقشہ بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

انٹارکیٹکا پر تیار ہونے والی ترک ڈاکومینٹری "دی بلیک باکس آف دی پلینیٹ” کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ڈاکومینٹری سے واضح ہوتا ہے کہ مستقبل میں نوع انسانی کو کن خطرناک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ترک سائنسدان نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ سرد ترین علاقوں کے گلیشئر مکمل طور پر نہ پگھلیں لیکن اگر ان کے پگھلنے کی یہی رفتار رہی تو بہت سے علاقوں کی سرحدیں بدل جائیں گی۔ کروڑوں لوگوں کو نقل مکانی کرنے پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ پینگوئن کالونیز اور سمندر کی بڑی وہیل مچھلیوں کا خوراک کی تلاش میں جنوبی حصوں میں آنے کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں انسان کو اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا ہو گا۔

برجو اوزسائے نے کہا کہ دنیا میں جو شہر سطح سمندر سے 70 میٹر نیچے ہیں وہ گلیشئر کے پگھلنے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے جو بچ جائیں گے ان کی سرحدیں بدل جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں لندن، سڈنی، لاس اینجلس، نیویارک، ریو ڈی جنیریو، بارسلونا، لزبن، ڈبلن، ایمسٹرڈیم، کوپن ہیگن، اوسلو، ہیلسنکی، سینٹ پیٹرزبرگ، کیپ ٹاوٗن اور ٹوکیو سمندر میں ڈوب جائیں گے۔

Read Previous

استنبول کے صوبے گزیانتیپ میں آرٹ ویک کا انعقاد

Read Next

امریکی مالیاتی ادارے کا افغانستان میں سرمایہ کاری کے لئے طالبان سے مذاکرات

Leave a Reply