بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کا دو روزہ سربراہی اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس میں ایران جنگ، روس-یوکرین تنازع، توانائی کا تحفظ، تجارت اور عالمی معیشت پر جنگوں کے اثرات اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
برکس کے 11 رکن ممالک میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ برکس کے مطابق اس کے رکن ممالک دنیا کی تقریباً 49.5 فیصد آبادی، 40 فیصد عالمی جی ڈی پی اور 26 فیصد عالمی تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور جنوبی افریقہ سمیت کئی رکن ممالک کے رہنما شریک ہیں۔ برازیل کی نمائندگی وزیر خارجہ ماؤرو ویئرا جبکہ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کر رہے ہیں۔
اجلاس کے پہلے روز بند کمرہ نشست میں جامع عالمی حکمرانی اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے پر گفتگو کی گئی، جبکہ دوسرے روز عالمی ترقی، جدت، تعاون اور پائیداری کے موضوع پر نشست ہوگی۔ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کی توقع ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ بھارت بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ یہ 2019 کے بعد ان کا پہلا دورۂ بھارت ہے۔ دونوں ممالک 2020 میں متنازع سرحد پر خونریز جھڑپ کے بعد تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تقریباً 3,500 کلومیٹر طویل سرحدی تنازع اب بھی حل طلب ہے۔ شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان الگ ملاقات بھی متوقع ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
دوسری جانب بھارت کو ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اجلاس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقاتیں کیں۔
برکس کا قیام 2009 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی اداروں میں زیادہ آواز دینے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ حالیہ برسوں میں اس کی رکنیت میں توسیع ہوئی ہے، تاہم رکن ممالک کے مختلف سیاسی اور علاقائی مفادات کے باعث مشترکہ مؤقف اختیار کرنا اب پہلے سے زیادہ مشکل سمجھا جا رہا ہے۔
