Turkiya-Logo-top

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان توانائی منصوبوں پر پیش رفت، بحیرہ اسود کے نیچے یورپ تک بجلی کی ترسیلی لائن بچھائی جائے گی

ترکیہ اور آذربائیجان نے بجلی کی ترسیل کے تین بڑے منصوبوں پر پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جن میں بحیرہ اسود کے نیچے سے یورپ تک بجلی پہنچانے والا ایک مجوزہ کوریڈور بھی شامل ہے۔ ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کو مزید وسعت دینا اور خطے کو یورپی منڈیوں سے بہتر طور پر جوڑنا ہے۔

یہ بات باکو میں منعقدہ پانچویں آذربائیجان-ترکیہ انرجی فورم کے بعد سامنے آئی، جہاں بائراکتار اور آذربائیجان کے وزیر توانائی پرویز شہبازوف نے ہائیڈروکاربن، پیٹروکیمیکل، قابلِ تجدید توانائی، بجلی کی منڈیوں، توانائی کی بچت، ریگولیشن اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

بائراکتار کے مطابق پہلا منصوبہ نخچیوان کے راستے آذربائیجان سے ترکیہ تک بجلی کی ترسیلی لائن کا ہے۔ دوسرا منصوبہ ترکیہ، جارجیا، آذربائیجان اور بلغاریہ کو جوڑنے والا چار ملکی گرین انرجی کوریڈور ہے، جبکہ تیسرا منصوبہ بحیرہ اسود کے نیچے سے بجلی کی لائن یورپ تک لے جانے سے متعلق ہے۔

ترکیہ اور آذربائیجان پہلے ہی باکو-تبلیسی-ارزروم گیس پائپ لائن، ٹرانس اناطولین نیچرل گیس پائپ لائن یعنی TANAP اور یورپ تک جانے والی TAP پائپ لائن کے ذریعے توانائی کے شعبے میں تعاون کر رہے ہیں۔

ترک وزیر توانائی کے مطابق آذربائیجان تیل اور قدرتی گیس پیدا کرنے والا اہم ملک ہے اور اب بجلی کی پیداوار میں بھی اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے، جبکہ ترکیہ ایک بڑی اور بڑھتی ہوئی توانائی منڈی ہونے کے ساتھ یورپ تک توانائی پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

دونوں ممالک وسطی ایشیا اور دیگر ترک ریاستوں کے توانائی وسائل کو موجودہ انفراسٹرکچر سے جوڑنے کے امکانات پر بھی کام کر رہے ہیں۔ بائراکتار کے مطابق باکو-تبلیسی-جیہان پائپ لائن کی روزانہ گنجائش دس لاکھ بیرل ہے، تاہم اس وقت اس کے ذریعے تقریباً چھ لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا ہے، اس لیے قازقستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے تیل کو اس راستے سے منتقل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ترک ریاستوں کے تیل، گیس اور معدنی وسائل کو ترکیہ کی صنعتی صلاحیت، بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور یورپی منڈیوں تک رسائی کے ساتھ ملا کر بڑے مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

Read Previous

نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس، ایران جنگ اور یوکرین تنازع ایجنڈے میں شامل

Read Next

نئی دہلی اعلامیہ: برکس نے دنیا کے موجودہ نظام کے متبادل کے لیے کیا خاکہ پیش کیا؟

Leave a Reply