Turkiya-Logo-top

9/11 کی 25ویں برسی پر امریکی صدارتی بریفنگز کی خفیہ دستاویزات جاری

نائن الیون حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر امریکا نے کئی درجن صدارتی انٹیلی جنس بریفنگز کی خفیہ دستاویزات عام کر دی ہیں، جن میں 11 ستمبر 2001 سے پہلے اسامہ بن لادن اور القاعدہ سے متعلق امریکی حکومت کے پاس موجود معلومات کی تفصیل شامل ہے۔ سی آئی اے کے مطابق یہ صدارتی روزانہ بریفنگز کی اب تک کی سب سے بڑی ڈی کلاسیفائیڈ ریلیز ہے۔

جاری کی گئی دستاویزات 1998 سے 12 ستمبر 2001 تک کے عرصے پر محیط ہیں۔ ان میں بن لادن کی نقل و حرکت، اس کے مالی ذرائع، مختلف ملکوں میں اس کے نیٹ ورک اور امریکا کے خلاف ممکنہ حملوں سے متعلق خدشات کا ذکر موجود ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ستمبر 1998 کی ایک بریفنگ میں کہا گیا تھا کہ بن لادن کی ترجیح امریکا کے اندر، خاص طور پر واشنگٹن میں حملہ کرنا ہو سکتی ہے اور القاعدہ کسی امریکی شہر پر دھماکہ خیز مواد سے بھرے طیارے کے ذریعے حملے کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔

دسمبر 1998 کی ایک اور بریفنگ میں ممکنہ ہائی جیکنگ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا کہ بن لادن نیٹ ورک سے وابستہ کچھ افراد ہائی جیکنگ کی تربیت حاصل کر چکے تھے اور ایک نامعلوم نیویارک ایئرپورٹ پر سکیورٹی چیک سے بچنے کی آزمائشی کوشش بھی کی گئی تھی۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کو خدشہ تھا کہ بن لادن کا نیٹ ورک ’ڈرٹی بم‘ سمیت ایسے ہتھیاروں کے لیے مواد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن میں روایتی دھماکہ خیز مواد کے ساتھ تابکار مادہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 1999 تک امریکی حکام کے مطابق القاعدہ کے کارکن ایسے تجربات بھی کر رہے تھے جن کا مقصد دھماکوں کی تباہ کن صلاحیت بڑھانا تھا۔

اپریل 1998 کی ایک بریفنگ میں طالبان حکومت کی جانب سے بن لادن کو امریکا کے حوالے نہ کرنے کا بھی ذکر ہے۔ دستاویز کے مطابق طالبان اسے افغانستان میں اپنا ’مہمان‘ سمجھتے تھے اور سوویت قبضے کے خلاف اس کی سابقہ مدد کے باعث اس کے خلاف سخت کارروائی سے گریزاں تھے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

12 ستمبر 2001 کی ایک رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ حملوں کی منصوبہ بندی تقریباً دو سال سے جاری تھی اور امریکی کیپیٹل بھی ممکنہ اہداف میں شامل تھا۔

تاہم جاری کی گئی دستاویزات میں بڑی تعداد میں حصے اب بھی حذف شدہ ہیں اور ان سے نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی یا امریکی حکام کی معلومات کے بارے میں کوئی ایسا بنیادی نیا انکشاف سامنے نہیں آیا جو پہلے سے معلوم حقائق کو نمایاں طور پر بدل دے۔

Read Previous

"یہ ریکارڈ 1919 سے 1922 کے درمیان اناطولیہ میں شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصان کو ظاہر کرتے ہیں”، ترکیہ نے یونانی فوج کے مبینہ مظالم سے متعلق تاریخی دستاویزات جاری کر دیں

Read Next

نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس، ایران جنگ اور یوکرین تنازع ایجنڈے میں شامل

Leave a Reply