ترکیہ کی وزارت خارجہ نے یونانی ترک جنگ (1919-1922) کے دوران اناطولیہ میں یونانی فوج کی جانب سے ترک شہریوں کے خلاف مبینہ مظالم سے متعلق تاریخی دستاویزات اور تصاویر جاری کی ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ مواد اس کے سفارتی آرکائیوز سے لیا گیا ہے، جس میں دیہات کی تباہی، شہریوں کی ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کے شواہد شامل ہیں۔
ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جاری کردہ ریکارڈ یونانی فوج کے اناطولیہ پر قبضے اور بعد ازاں پسپائی کے دوران تباہی کی ایک منظم پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں، جسے 1923 کے معاہدۂ لوزان اور مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں تسلیم کیا گیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
وزارت کے مطابق یہ تصاویر اور دستاویزات برصغیرِ اناطولیہ کے شہر بورصہ کے قریب ایک گاؤں میں ترک شہریوں کے خلاف ہونے والے مبینہ قتل عام کی مثال پیش کرتی ہیں۔
جاری کیے گئے مواد میں ایک تحقیقاتی کمیشن سے منسوب تصاویر، ہاتھ سے لکھی گئی تاریخی دستاویزات اور متاثرہ دیہات کے مناظر شامل ہیں۔ تصاویر میں تباہ شدہ بستیاں، شہری متاثرین اور حملوں سے بچ جانے والے افراد دکھائے گئے ہیں۔
ترک وزارت کے مطابق بعض تصاویر میں بورصہ کے قریب مشارہ حسن اور مدنیا کے علاقے سوغوت پنار گاؤں کے متاثرین کا ذکر موجود ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
یہ جنگ 15 مئی 1919 کو یونانی فوج کے ازمیر میں اترنے کے بعد شروع ہوئی اور 1923 میں جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے ساتھ اس کا اختتام ہوا۔ وزارت نے کہا ہے کہ اس دور سے متعلق مزید تاریخی مواد اس کے ڈیجیٹل آرکائیوز اور تحقیقی مراکز میں دستیاب ہے۔
واضح رہے کہ معاہدۂ لوزان، جو 24 جولائی 1923 کو طے پایا، کے آرٹیکل 59 میں یونان کی جانب سے جنگ کے قوانین کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اناطولیہ میں ہونے والے نقصانات پر ذمہ داری تسلیم کرنے کا ذکر موجود ہے۔
