Turkiya-Logo-top

امریکی کانگریس کا بھارتی سائبر ہیکرز اور تین بھارتی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

امریکی کانگریس کے ارکان نے بھارتی سائبر کرائے کے گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان گروہوں نے گزشتہ 15 سال سے زائد عرصے کے دوران ہزاروں امریکی شہریوں، کمپنیوں، وکلا اور دیگر اداروں کو ہدف بنایا۔

9 ستمبر 2026 کو امریکی کانگریس سے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کو لکھے گئے خط میں ارکانِ کانگریس نے غیر ملکی سائبر گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں قائم کئی سائبر کرائے کے گروہ طویل عرصے سے امریکی شہریوں، کاروباری اداروں اور ان کی نمائندگی کرنے والے وکلا کے خلاف ہدف بنا کر جاسوسی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

امریکی قانون سازوں کے مطابق ان سائبر گروہوں کی سرگرمیاں صرف ڈیٹا چوری تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے امریکی صحافیوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی آواز دبانے کے لیے غیر ملکی قانونی نظام کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

خط میں دعویٰ کیا گیا کہ ان گروہوں اور ان کے ساتھیوں نے معروف امریکی میڈیا اداروں کی تحقیقاتی رپورٹس کو سنسر کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک جارحانہ قانونی مہم چلائی۔ امریکی کانگریس کے ارکان کے مطابق اس طرح کی کوششیں غیر ملکی اداروں کو غیر ملکی عدالتوں کے ذریعے امریکی عوام کو ان کے ملک کو درپیش سائبر خطرات سے لاعلم رکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

امریکی قانون سازوں نے مزید کہا کہ ان سائبر ہیکرز نے امریکی قانونی اور مالیاتی شعبوں کو بھی منظم انداز میں نشانہ بنایا۔ خط کے مطابق نجی ایکویٹی کمپنیوں، ادویہ ساز اداروں اور امریکا کی بڑی قانونی فرموں سے وابستہ ایک ہزار سے زائد وکلا کو نشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد جاری مقدمات پر اثرانداز ہونا تھا۔

خط میں ان سائبر گروہوں کے مبینہ تعلقات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق ان گروہوں نے قطری حکومت کی ہدایت پر بھی کارروائیاں کیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

امریکی کانگریس کے ارکان نے سیکریٹری تجارت ہاورڈ لٹنک سے مطالبہ کیا کہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو نشانہ بنانے والے غیر ملکی سائبر کرائے کے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے

امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ سائبر جاسوسی، ڈیٹا چوری اور قانونی نظام کے مبینہ غلط استعمال کا امتزاج امریکی شہریوں، کاروباری اداروں، میڈیا اور قانونی شعبے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے

خط میں اس معاملے کو امریکی شہریوں کے آئینی حقوق، آزاد صحافت اور قومی سائبر سکیورٹی سے جوڑتے ہوئے وفاقی حکومت سے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے

Read Previous

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو واپس بھیجنے کے پی ایم ڈی سی احکامات معطل کر دیے

Leave a Reply