آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض مظاہرین کے پاس اسنائپرز اور دیگر ہتھیار موجود تھے احتجاج کو مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت پرتشدد رخ دیا گیا۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ بعض مظاہرین کے پاس موجود اسلحے کے حوالے سے شواہد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک کالعدم کمیٹی نے کچھ افراد کے شناختی کارڈ اپنے پاس جمع کیے ہوئے ہیں اور احتجاج کو ایک منظم منصوبے کے تحت شدت دی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم اگر کسی احتجاج میں ہتھیار شامل ہو جائیں تو صورتحال امن و امان کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایس ایس پی ریاض مغل نے کہا کہ بعض مظاہرین کی جانب سے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر احتجاج پرامن تھا تو سفید جھنڈوں کے ساتھ مبینہ طور پر اسلحہ رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ واقعات کے دوران ایک سب انسپکٹر جاں بحق ہوا جبکہ متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق مجموعی طور پر 174 اہلکار متاثر ہوئے ہیں۔
ایس ایس پی ریاض مغل نے کہا کہ اس سے قبل بھی تین پولیس اہلکار جان سے جا چکے ہیں، اس لیے ان واقعات کو مکمل طور پر پرامن احتجاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مختلف مطالبات کے حق میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، تاہم بعض مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔
