مسلم دنیا میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سے ترک پروڈکٹس کی مانگ بڑھ گئی

فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ مہم سے اسلامی ممالک میں ترک پروڈکٹس کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

اسلامی دنیا میں "ایک تیر سے دو شکار” کی سوشل میڈیا مہم شروع ہو گئی ہے۔ جہاں ایک طرف فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع ہو گیا ہے دوسری طرف ترک مصنوعات کی ڈیمانڈ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس سے ترک معیشت میں تیزی کی توقع ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان کا فرانس کے صدر کے خلاف سخت موقف اسلامی دنیا میں انتہائی احترام کا درجہ حاصل کر گیا ہے۔ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر سب سے سخت ردعمل صدر ایردوان کا سامنے آیا جس میں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو سخت الفاظ میں جواب دیا اور ترکی میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

صدر ایردوان کی ترک عوام سے فرانسیسی مصنوعات کی اپیل پر اسلامی دنیا نے بھی لبیک کہا اور عرب دنیا سمیت دیگر اسلامی ممالک کے تمام بڑے ڈپاٹمنٹل اسٹورز نے فرانس کی مصنوعات ہٹا کر ترک پروڈکٹس لگا دی ہیں۔

سب سے بڑا فائدہ سعودی عرب میں دیکھنے میں آیا جہاں سرکاری طور پر ترک پروڈکٹس کی غیر اعلانیہ بندش کا اثر فوری طور پر ختم ہوا اور اب سعودی تاجروں نے ترکی کے تاجروں سے رابطے بڑھا کر نئی خریداری کے آرڈرز دینا شروع کر دیئے ہیں۔

عرب ممالک کے سوشل میڈیا پر فرانسیسی پروڈکٹس کی جگہ ترکی کی مصنوعات کی خبروں، تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہیں۔

قطر کے سوشل میڈیا کے ایک صارف علی قطری نے لکھا "وہ ان ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر رہے ہیں اس کی بجائے وہ ترک پروڈکٹس خرید رہے ہیں کیونکہ صدر ایردوان نے ایک حقیقی مسلم رہنما کا کردار ادا کرتے ہوئے فرانسیسی صدر کو سخت جواب دیا ہے”

ایک اور صارف سام زوبا نے لکھا کہ ” توہین رسالت پر ترک قیادت کا کردار انتہائی اہم رہا اب عرب عوام ترکی کی پروڈکٹس کو ترجیح دے رہے ہیں”

یو اے ای اور بحرین کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر ان ممالک کے عوام بھی اس پالیسی سے نالاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سعودی عرب، یو اے ای اور بحرین میں ترکی کی پروڈکٹس کی ڈیمانڈ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

Read Previous

ایشیائی ممالک کی ترک دفاعی اسلحہ خریدنے میں دلچسپی

Read Next

یو اے ای اور اسرائیلی کمپنی نے مشترکہ طور پر حائفا پورٹ خریدنے کی درخواست جمع کروا دی

Leave a Reply