fbpx
ozIstanbul

یورپی یونین کا لیبیا میں ترک کمپنی کو پابندی کی فہرست میں شامل کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا؛ترکی

ترکی کا کہنا ہے کہ لیبیا کے حوالے سے ایک نیول کمپنی کو یورپی یونین کی طرف سے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جانا ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
یورپی یونین خارجہ تعلقات کونسل کے اجلاس کے بعد لیبیا کے حوالے سے ایک ترک نیول کمپنی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کئے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ "یہ فیصلہ ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا”۔
وزارت خارجہ کی طرف سے موضوع سے متعلق جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین خارجہ تعلقات کونسل اجلاس میں لیبیا کے حوالے سے ہماری ایک نیول کمپنی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے”۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا ایرینی آپریشن لیبیا کے مشرق میں موجود غیر قانونی مسلح فورسز کے لیڈر خلیفہ حفتر کو نواز رہا ہے اور اقوام متحدہ کی تسلیم کردہ لیبیا حکومت کو سزا دے رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی طرف سے لیبیا کی آئینی حکومت کی امداد کو پابندیوں کی خلاف ورزی شمار کیا جانا اور متحدہ عرب امارات سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کے برخلاف فضاء اور زمین سے قابض خلیفہ حفتر کو اسلحہ بھیجنے والی کمپنیوں کو دیکھا ان دیکھا کیا جانا یورپی یونین کے جانبدارانہ موقف کا کھُلا اظہار ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اس طرز عمل کے ساتھ یورپی یونین ، بین الاقوامی مشروعیت کی حمایت کوتسلیم کرنے کی بجائے حملہ آور کی پیٹھ تھپتھپانے پر مبنی اور ایرینی آپریشن کے ساتھ کھُلے بندوں پیش کئے گئے دوہرے معیاروں کو جاری رکھنے پر مُصر ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے یورپی یونین کی طرف سے ایسا فیصلہ کیا جانا نہایت درجے افسوسناک ہے۔ یورپی یونین علاقے میں امن و استحکام کی خواہش مند ہے تو اسے فوری طور پر جانبدارانہ روّیے سے باز آجانا چاہیے اور ترکی کے ساتھ مشاورت و تعاون کے ساتھ فیصلے کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ کل برسلز میں منعقدہ یورپی یونین خارجہ تعلقات کونسل اجلاس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں یورپی یونین کے کمشنر برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی جوزف بوریل نے اقوام متحدہ کی لیبیا پر اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزی کے دعوے سے ترکی ، اردن اور قزاقستان سے تین کمپنیوں پر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی وجہ سے لیبیا کے شہری دو افراد پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔

پچھلا پڑھیں

ترک ایجنسی نے سیلاب سے متاثرہ سوڈان میں امدادی سامان بھجوایا

اگلا پڑھیں

ارطغرل کے دشمن نویان کی ہمشیرہ کا کردار بنھانے والی اداکارہ کا اپنے کردار پر تبصرہ

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے