صدر ایردوان کا یورپین یونین کو کھلا خط، مشرقی بحیرہ کا منصفانہ فیصلہ کیا جائے

Turkish President Tayyip Erdogan attends a bilateral meeting with U.S. Vice President Joe Biden in Washington March 31, 2016. REUTERS/Joshua Roberts

صدر رجب طیب ایردوان نے یورپین یونین کے تمام رہنماوٗں کو ایک کھلا خط لکھا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ یورپی بلاک مشرقی بحیرہ روم کے تنازعے کا منصفانہ فیصلہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم کے حالیہ بحران کے باعث ترکی اور یورپین یونین کے تعلقات ایک نئے موڑ پر آ گئے ہیں۔ ترکی چاہتا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم کے معاملے پر یورپی ممالک بہتر فیصلہ کریں۔

مشرقی بحیرہ روم سے متعلق ترکی نے دو اہداف مقرر کئے ہیں۔ پہلا یہ کہ ترکی کو اس کا قانونی حق دیا جائے دوسرا یہ کہ ترک قبرص کو سمندر کے قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے دیا جائے جو اس کا قانونی حق ہے۔

ترکی چاہتا ہے کہ خطےکے دیگر ممالک مشرقی بحیرہ روم سے اپنے حصے کے قدرتی وسائل استعمال کریں اور دوسروں کا حق غصب کرنے کی پالیسی کو ترک کر دیں۔

مشرقی بحیرہ روم سے حاصل ہونے والے قدرتی وسائل پر یورپ کا بھی حق ہے لیکن ترکی اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

یونان اور یونانی قبرص اپنے قانونی حصے سے زائد کا مطالبہ اور ترکی کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یونان اور یونانی قبرص جو یورپین یونین کا حصہ ہیں وہ یورپی بلاک کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

یونان خلیج انتطالیہ میں توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ ترکی کو اس کے قانونی حق سے محروم کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے یونان اور یونانی قبرص یورپین یونین کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

یونان نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر ترکی کے خلاف ایک فورم تشکیل دیا ہے تاکہ مشرقی بحیرہ روم کے قدرتی وسائل خاص طور پر گیس کے ذخائر سے ترکی کو محروم کیا جا سکے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی مشرقی بحیرہ روم کا معاملہ یونان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہش مند ہے۔ ترکی نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ مل کر اس خطے کو مسلح تصادم سے بچانے کے لئے یونان کے ساتھ فوجی سطح پر تکنیکی مذاکرات شروع کئے ہیں جس کا چھٹا دور کل سے شروع ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اپنے ہمسایہ یونان کے ساتھ تمام معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ترکی چاہتا ہے کہ گیس کے ذخائر سے متعلق جن سات ممالک کا فورم بنایا گیا ہے اس میں ترکی اور ترک قبرص کو بھی شامل کیا جائے تاکہ معاملے کو خوش اسلوبی سے طے کیا جا سکے۔

Read Previous

آرمینیا کے 2 ہزار سے زائد فوجی مارے گئے، وزارت دفاع آذربائیجان

Read Next

بھارتی عدالت نے بابری مسجد شہید کرنے کے تمام ملزمان بری کر دیئے

Leave a Reply