جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ،11 روز بعد ایک شخص کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا

گزشتہ ہفتے آنے والے بدترین زلزلے میں 260 گھنٹے ملبے تلے دبے مصطفیٰ آویسی کو زندہ نکال کیا گیا۔

ملبے سے زندہ بچ جانے کے بعد انہوں نے اپنے گھروالوں کو فون کال کی اور خیریت دریافت کی۔

مصطفیٰ آویسی نے ہسپتال سے فون کے ذریعے اپنی خیریت کے حوالے سے اپنے بھائی کو فون کال کی۔

فون کال کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے، ویڈیو کو دیکھنے والے سوشل میڈیا صارفین بھی آبدیدہ ہوگئے، کئی صارفین نے کمنٹ سیکشن میں مصطفیٰ آویسی کے لیے دعا کی۔

مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوچا کہ زلزلے میں میری فیملی مر چکی ہیں. ملبے سے باہر نکلنے کے لیے میری امید دم توڑ گئی تھی‘۔

مصطفیٰ آویسی نےہسپتال میں اپنی نومولود بچی اور اہلیہ سے ملاقات بھی کی۔

مصطفیٰ آویسی اُن زندہ بچ جانے والوں میں سے ایک ہے جنہیں ترکیہ اور شام میں زلزلے کے 10 دن بعد امدادی کارکنوں کی جانب سے ملبے تلے نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، مصطفیٰ آویسی کے علاوہ 17 سالہ لڑکی اور 74 سالہ خاتون بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے ترکیہ کے شہر قہرما ماراش میں واقع اپارٹمنٹ کے ملبے سے 10 روز بعد 248 گھنٹے تک ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی 17 سالہ لڑکی کو زندہ نکالا تھا۔

اس کے علاوہ ترکیہ کے صوبہ حطائے میں 45 سالہ ہاکان یاسینوگلو کو امدادی کارکنوں نے 278 گھنٹے بعد ملبے سے زندہ نکالا تھا۔

واضح رہے کہ شام اور ترکیہ میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، حکام کو خدشہ ہے کہ ابھی تک ہزاروں متاثرین ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر سے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا وہیں متاثرین اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کسی نہ کسی لمحے ان کے پیارے ملبے تلے زندہ ہوں گے تو دوسری جانب وقت گزرنے کے ساتھ زندگی کی امید دھیمی پڑتی جا رہی ہے۔

Alkhidmat

Read Previous

صدر ایردوان سے ملاقاتوں اور ٹیلی فون پر عالمی سربراہان کا ترکیہ سے تعاون اور ترک عوام سے یکجہتی کا اظہار

Read Next

اٹلی میں ترک طلباء کا زلزلہ متاثرین سے اظہاریکجہتی

Leave a Reply