پاکستان طالبان کو تشدد کا راستہ روکنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، عبداللہ عبداللہ

افغانستان کے قومی مصالحتی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کو تشدد کا راستہ روکنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ یہ مطالبہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ امریکہ اور دیگر تمام ممالک سے کیا گیا ہے جو طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں جو دیگر ممالک شامل تھے ان سے بھی کہا گیا ہے کہ طالبان تشدد کا راستہ ترک کر دیں۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ پاکستان کا تین روزہ دورہ مکمل کر کے کابل واپس پہنچ گئے ہیں۔ حالیہ بارہ برسوں میں پاکستان کا یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔

اپنے دورے میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان۔ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں جاری مذاکرات کے حوالے سے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے دورے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغان حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن کے لئے افغان حکومت کئی معاملات پر سمجھوتہ بھی کرنے کو تیار ہے لیکن اس کے لیے سب سے پہلے طالبان کو حملے روکنا ہوں گے۔

ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان امن کی بحالی کا ایک ہی راستہ ہے کہ طالبان اپنی پُرتشدد کارروائیاں روک دے تاکہ بات چیت کو آگے لے جانے میں آسانی ہو۔

واضح رہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جاری مذاکرات ایک پیچیدہ صورتحال کا شکار ہیں۔ طالبان کا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تناظر میں کئے جائیں گے۔ دوسری طرف افغان حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں افغان حکومت شامل نہیں تھی لہذا اس معاہدے کے تحت مذاکرات بے معنی ہوں گے۔

Read Previous

آذربائیجان: اب تک آرمینیا کے 200 ٹینکس اور 228 توپ خانے تباہ کر دیئے

Read Next

یمن کی جنگ میں شامل تمام ممالک جنگی مجرم ہیں، اقوام متحدہ

Leave a Reply