ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی، جو بھی ایرانی قوم کو نقصان پہنچانے کی جرأت کرے گا اسے تباہ کن قیمت چکانا ہوگی۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج اپنے عوام کو نقصان پہنچانے والوں کو ایسا جواب دیں گی جس کے مقابلے میں 100 ارب یورو کا معاشی نقصان بھی کچھ نہیں ہوگا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے جرمن چانسلر کے بیان کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ گزشتہ سال جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تھے تو فریڈرک مرز نے ان حملوں کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل یورپ کا گندا کام کر رہا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
عراقچی کا یہ ردعمل جرمن چانسلر کے حالیہ بیان کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں مرز نے ایران سے متعلق جاری تنازع کے یورپی معیشت پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یورپی ممالک کو 100 ارب یورو سے زیادہ کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ انہوں نے اس تنازع کے فوجی حل کو ناممکن قرار دیتے ہوئے سفارتی کوششوں پر زور دیا تھا۔
