امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی نئی جنگ شروع ہوگئی

امریکہ اور چین میں ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کی نئی جنگ شروع ہو گئی۔

صدر جو بائیڈن نے 280 ارب ڈالر کے چِپس اینڈ سائنٹفک ایکٹ کی منظوری دے دی ۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے باعث امریکہ کو پریشانی کاسامنا ہے۔

امریکہ نے اب تک 280 ارب ڈالر کے ٹیکنالوجی کے منصوبے تیار کر لئےہیں۔

امریکہ ٹیکنالوجی کی دنیا پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔

صدر جو بائیڈن نے کمپیوٹر چِپس تیار کرنے کی صنعت کو ٹیکسوں سے استثنیٰ کے قانون کی منظوری دے دی ہے ۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ چینی ٹیکنالوجی پر انحصار ختم کرنے کے لئے ٹیکسوں میں معافی دی جائے۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران کمپیوٹر چِپس کی قلت نے کئی بڑی صنعتوں کو بحران میں مبتلا کر دیا تھا۔

دنیا کی زیادہ تر کمپنیاں چین کی کمپیوٹر چِپس پر منحصر ہوتی جا رہی ہیں۔

دنیا میں سیمی کنڈکٹر کی 10 فیصد ڈیمانڈ امریکہ پوری کرتا ہے۔

1990 میں امریکہ کا اس شعبے میں شیئر 40 فیصد تھا۔

ادھر پورپ نے بھی چِپس انڈسٹری میں بھی 40 ارب یورو کی بڑی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ اور یورپ ہر صورت چین کے بڑھتے ہوئے معاشی ، سیاسی اور عسکری اثرو رسوخ کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔

صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی مائیکرون میموری چِپس کی صنعت میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جس سے روزگار کے 40 ہزار مواقع پیدا ہوں گے۔

واشنگٹن میں چین کے سفارتخانے نے چِپس اینڈ سائنٹفک ایکٹ کو سرد جنگ کی ذہنیت قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

Read Previous

ترک فوج کو گھریلو منی سپاٹر ڈرون ٹوگن کی پہلی کھیپ مہیا کر دی گئی

Read Next

پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف 8ہزار میٹر بلند 10چوٹیاں سر کرنیوالے دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیمابن گئے

Leave a Reply