پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں طبی مراکز، صحت کے بنیادی ڈھانچے، شہری تنصیبات اور نہتے فلسطینی شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں، کو نشانہ بنانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں نہ صرف انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملے اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہیں اور ان کا تسلسل جنگ بندی کی کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ غزہ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے جامع منصوبے پر پیش رفت انتہائی اہم ہے تاہم حالیہ کارروائیاں اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کا حوالہ بھی دیا گیا کہ فلسطینی دھڑوں نے مجوزہ روڈ میپ، جس میں ہتھیاروں کو محدود کرنے سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں جو قبول کر لی ہیں۔ وزرائے خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے، کشیدگی میں مزید اضافے اور غزہ کے انسانی بحران کو مزید سنگین بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
آٹھ اسلامی ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ عام شہریوں کا تحفظ، اسپتالوں، طبی مراکز، ایمبولینس سروسز، طبی عملے اور انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کی سلامتی ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق غزہ میں خوراک، ادویات، طبی سامان اور دیگر امدادی اشیا کی فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں، غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع اور مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوششوں سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ وزرائے خارجہ کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک ایسی پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد طاقت کے ذریعے زمینی حقائق تبدیل کرنا، دو ریاستی حل کو کمزور کرنا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو محدود کرنا ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں سے متصادم ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے مؤثر اور عملی اقدامات کرے تاکہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جا سکے۔ اعلامیے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ذمہ دار عناصر کا احتساب ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، جنگ بندی کے امکانات برقرار رہیں اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو۔

وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے، ان پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے یا فلسطینی عوام کو جبری طور پر بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائیں گے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچائیں گے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اعلامیے کے اختتام پر آٹھ اسلامی ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کا واحد راستہ ایک سنجیدہ سیاسی عمل ہے، جو دو ریاستی حل پر مبنی ہو۔ بیان میں 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرے۔
